20مئی کو ایک لاکھ82ہزار ووٹر3امیدواروں کی سیاسی قسمت پر مہر ثبت کریں گے
سرینگر// مرکزی زیر انتظام خطہ لداخ میں جموں کشمیر سے علیحدہ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں،جس میں3 امیدواروں کے درمیان 20مئی کو انتخابی جنگ ہوگی۔ ماضی میں اس نشست پر کانگریس کا دبدبہ رہا ہے،جنہوں نے6مرتبہ جیت درج کی جبکہ نیشنل کانفرنس اور بھاجپا نے بھی اس نشست پر2،دو مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق لداخ انتخابی نشست پر20مئی کو پارلیمانی انتخابات ہونگے،جس میں3امیدواروں کے درمیان براہ راست انتخابی معرکہ آرائی ہوگی۔کانگریس نے اس نشست پر ٹسرنگ نامگیال جبکہ بھاجپا نے تاشی گیلسن کو میدان میں اتارا ہے،تاہم امکانی طور پر آزاد امیدوار حنیفہ جان بھی دونوں امیدواروں کو سخت مقابلہ دینگے۔ اس نشست پر مجموعی طور پر رائے دہندگان کی تعداد ایک لاکھ82ہزار571ہیں،جن میں91ہزار703مرد اور90ہزار867خواتین ووٹر بھی شامل ہیں۔ رائے دہند گان کیلئے مجموعی طور پر577انتخابی مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،جس میں ایک انتخابی مرکز صرف ایک کنبے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔20مئی کو ہونے والے انتخابات میں ایک پولنگ مرکز15ہزار فٹ کی بلندی پر قائم کیا گیا۔لداخ واحد لوک سبھا (پارلیمانی) حلقہ ہے جو رقبے کے لحاظ سے ہندوستان میں اس طرح کا سب سے بڑا حلقہ ہے،اس نشست کا کل رقبہ 173,266 مربع کلومیٹر ہے۔پارلیمانی حلقہ انتخابات میں اب تک13انتخابات میں کانگریس نے6مرتبہ جیت حاصل کی ہے جبکہ نیشنل کانفرنس اور بھاجپا نے دو,2بار مقابلہ اپنے ناک کیا ہے۔اس نشست پر آزاد امیدواروں نے بھی3مرتبہ میدان مارا ہے۔کانگریس کے پی نامگیال نے اس نشست پر جیت کی ہٹرک مار دی ہے جبکہ حسن خان اور تھوپستان چیوناگ اس نشست پر دو،2مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں۔بی جے پی کے تھوپستان چیونگ نے سب سے کم محض36وٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی ہے۔1967میں لداخ حلقہپارلیمانی انتخاب پر کانگریس کے نوانگ لوب زانگ تھوپسن چونگنور جنہیں عام طور پر کشک بھوکلا رنپوچے کہا جاتا تھا پارلیمنٹ ممبر بنے۔1971میں بھی کشک بھوکھلا لداخ سے بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔1977میں کانگریس نے لداخ کی سابق رانی پاروتی دیوی دیکشت وانگمو کو میدان میںتارا جنہوں نے6.63 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔1980میں کانگریس امیدوار پی نامگیال نے13.25فیصد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی جبکہ1984کے انتخابات میں پی نامگیال نے اس نشست پر دوسری مرتبہ فتح حاصل کی اور مجموعی طور پر اپنے نزدیکی مد مقابل سے13.42ووٹوں کے فرق سے کامیابی درج کی۔1989میںآزاد امیدوار غلام حسن کمانڈر نے کانگریس کی سلسلہ وار جیت پر بریک لگاتے ہوئے کانگریس امیدوار کو شکست دی۔حسن کمانڈر نے5.29ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔1996میں کانگریس کے پی نامگیال نے اس نشست پر ہیٹرک مارتے ہوئے جیت درج کی۔انہوں نے اپنے نزدیکی مد مقابل کو9.67ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔1998کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے پہلی مرتبہ اس نشست پر جیت درج کی۔ نیشنل کانفرنس کے امیدوار سید حسین نے اپنے مد مقابل کو60فیصد ووٹوں سے ہرایا جبکہ1999کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے دوسری مرتبہ اس نشست پر کامیابی درج کرتے ہوئے انکے امیدوار حسن خان نے اپنے نزدیکی مد مقابل کو معمولی ووٹوں کے فرق1.80 کی شرح سے شکست دی۔2004کے انتخابات میں آزاد امیدوار تھوپسن چیونگ نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار حسن خان کو25ہزار713ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ تھوپسن چیونگ نے66ہزار839جبکہ حسن خان نے41ہزار126ووٹ حاصل کیں۔2009کے انتخابات میں تاہم آزاد امیدوار حسن خان نے جیت درج کی۔2014کے پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی کے امیدوار تھوستان چیونگ ن آزاد امیدوار غلام رضا کو36ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔تھوپستان چیونگ نے31ہزار111جبکہ انکے نزدیکی مد مقابل غلام رضا نے31ہزار75 ووٹ حاصل کیں۔2019میں اس نشست پر ہوئے انتخابات کے دوران بھاجپا نے دوسری مرتبہ جیت درج کی اور انکے امیدوارجامیانگ ٹسرنگ نامگیال نے اپنے نزدیکی مد مقابل آزاد امیدوار سجاد حسین کو11ہزار10ووٹوں سے شکست دی،تسرنگ نامگیال نے42ہزار914جبکہ سجاد حسین نے31ہزار984اور کانگریس سے باہر جاکر آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں شرکت کرنے والے اصغر علی کربلائی نے29ہزار365ووٹ حاصل کیں۔










