نبارڈ اورزیر التواء پروجیکٹوں کی تکمیل امسال ترجیج پر رہے گی
سرینگر///مالی سال2023-24مین مرکزی حصص15ہزار کروڑ روپے تھا جس میں11ہزار300کروڑ روپے کو خرچ کیا گیا جبکہ3700 روپے دستیاب ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی معاونت والی اسکیموں کی موثر نفاذ کیلئے تمام محکموں کے پلاننگ افسران کو بجٹ تخمینہ،تخصیص نگراں نظام تک مکمل رسائی اور تربیت دینے کی ہدایت دی گئی۔محکمہ خزانہ کے پرنسپل سیکریٹری کی سربراہی میں منعقد ہونے والی میٹنگ کے دوران مرکزی معاونت والی اسکیموں کی موثر نفاذ کی نگرانی اور نظام کا جائزہ لیا گیا۔ پرنسپل سیکریٹرہی کزانہ کو بتایا گیا کہ ضلع ترقیاتی کمشنروں اور محکموں کی طرف سے جمع کرائے گئے مالیاتی پالیسی کی شرح کو مرتب کرکے ماہانہ بنیادوں پر اخرجاتی ڈویڑن اول و دویم کی طرف سے ترقیاتی اخراجات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ مالیاتی پالیسی کی شرح بغیربجٹ تخمینہ،تخصیص نگراں نظام اور پبلک فائنانس منیجمنٹ سسٹم پورٹلوں کومد نظر رکھتے ہوئے تیار کیے جا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں رپورٹنگ میں اعداد و شمار میں خلل پیدا ہو رہا ہے اور اعداد و شمار میں مماثلت نہیں ہے اور انہیں بہتر بنانے کی ضرور ت ہے۔ اس موقعہ پر اس بات کی جانکاری دی گئی یہ مالی سال2023-24مین مرکزی حصص15ہزار کروڑ روپے تھا جس میں11ہزار300کروڑ روپے کو خرچ کیا گیا جبکہ3700 روپے دستیاب ہے۔ پبلک فائنانس منیجمنٹ سسٹم کے نوڈل افسر نے کہا کہ گزشتہ2برسوں کے دوران مرکزی معاونت والی اسکیموں میں بہتری آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کو ریننگ میں بہتری ہوئی۔میٹنگ کی تفصیلات (منٹس آف میٹنگ)کے مطابق مرکزی حکومت نے8اسکیموں میں جو رقومات واگزار کئے ہیں ان میں کم رقومات کو خرچ کیا گیا ہے۔پرنسپل سکریٹری، محکمہ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پبلک فائنانس منجمنٹ سسٹم اور بجٹ تخمینہ،جائزہ منجمنٹ نگراں نظام پورٹلوں کی ہفتہ وار بنیادوں پر محکمہ خزانہ اور منصوبہ بندی کے تمام افسران کو باقاعدگی سے نگرانی کرنی ہوگی تاکہ مرکزی فنڈز (کیپیکس اور آمدن) کے 100 فیصد استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ زیر التواء پروجیکٹوں،جے کے پی سی سی کاموں اور نبارڈ کاموں کو ترجیج دی جانی چاہے جبکہ2016-17سے2018-19کے نبارڈ کاموں کو یا تو فوری طور پر مکمل کیا جانا چاہے یا ان پروجیکٹوں کو بند کرنے کی مشق کا آغاز کیا جانا چاہے جو مکمل نہیں ہوسکتی۔پرنسپل سیکریٹری نے کہا وہ کام جو’ جے کے پی سی سی ‘کو الاٹ کیے گئے تھے اور ابھی تک جاری ہیں ان کی فہرست سازی کی ضرورت ہے اور منظور شدہ و نظرثانی شدہ لاگت اور جے کے پی سی سی اور محکمہ تعمیرات عامہ کو جاری کیے گئے فنڈز میں توازن لاگت کا کام کیا گیا تاکہ کیپیکس 2021-25میں ان کے ٹائم با?نڈتکمیل کے لیے اسی طرح کا تخمینہ لگایا جائے۔ پرنسپل سیکریٹری خزانہ نے ہدایت دی کہ تمام محکموں کے پلاننگ افسران کو بجٹ تخمینہ،تخصیص نگران نظام اور پبلک فائنانس منیجمنٹ نظام تک مرکزی اسکیموں کی ہفتہ وار بنیادوں پر نگرانی کیلئے مکمل رسائی دی جانی چاہے،جبکہ ان اسکیموں کی نگرانی کیلئے پلاننگ افسراں کو تربیت بھی دی جائے گی۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پبلک فائنانس منیجمنٹ نظام کے نوڈل افسراں متعلقہ محکموں کے ڈائریکٹر منصوبہ بندی اور ڈائریکٹر فائنانس کو قومی سطح پر مرکزی معاونت والی اسکیموںمیں جموں کشمیر کی کارکردگی کو بہتر کرنے کیلئے حائل مسائل سے آگاہ کریں گے جبکہ ڈائریکٹر فائنانس اور ڈائریکٹر پلاننگ فوری طور پر ان مسائل کو حل کریں گے۔ پرنسپل سیکریٹری خزانہ نے مزید بتایا کہ زیر التواء پروجیکٹوں ،جموں کشمیر پبلک کنسٹریکشن کارپوریشن کے کاموں اور نبارڈ کاموں کو سرمائے بجٹ2024-25میں ترجیج دی جائے گی۔










