بھاجپا اور اس کی اے ، بی اور سی ٹیموں وک شکست سے دوچار کرنا ضروری/ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر // انڈیا اتحاد کی جماعتیں ملک کے سیکولر کردار ،جمہوریت اور آئین کو بچانے کیلئے جمع ہوئی ہیںکی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ بھاجپا اور اس کی اے ، بی اور سی ٹیموں وک شکست سے دوچار کرنا ضروری ہے ۔ سی این آئی کے مطابقصدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کٹرہ میں ایک شاندار عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو برباد کرنے اورلوگوں کو پشت بہ دیوار کرنے کے لئے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ بھاجپا نے اس تاریخی ریاست کو تہس نہس کردیا اور یہاں پشتینی باشندوں کو محتاج بنانے میںکوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ وہ کٹرہ میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مشترکہ ریلی میں جموں ادھمپور نشست کیلئے کانگریس اُمیدوار رمن بھلہ کیلئے انتخابی مہم کے سلسلے میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد کی جماعتیں ملک کے سیکولر کردار ،جمہوریت اور آئین کو بچانے کیلئے جمع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی انگوٹھے کی حکمرانی سے اور جمہوریت کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر حکومت کرنا چاہتی ہے۔ ’’ہم ملک اور جمہوریت کے ایک بڑے مقصد کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں جو آج خطرے میں ہے‘‘۔ڈاکٹر فاروق نے بھاجپا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ’’ وہ سماجی، سیکولر اخلاقیات اور جمہوری اصولوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جو آئین بنانے والوں نے وضع کئے تھے‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا پراکسی کے ذریعہ جموں و کشمیر پر حکمرانی چلا رہی ہے ۔ مقامی افسران کو نظرانداز کر دیا گیا ہے جبکہ باہر کے نوکرشاہ اس شو کو چلا رہے ہیں جو جموں و کشمیر کے جغرافیہ اور عوام کو درپیش مشکلات سے بے خبر ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جو بھی اس دور حکومت میں بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر مہاتما گاندھی اور نہرو کے ملک میں شامل ہوا جہاں سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا گیا۔ بی جے پی تقسیم کرو اور حکومت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو پچاس ہزار نوکریوں کا وعدہ کیا گیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تمام اعلانات جملے ہی نکلے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھاجپا اپنی پراکسیوں اور کرایہ کے لوگوں کے ذریعے ووٹوں کی تقسیم کرنے کیلئے کوشاں ہے لیکن تمام خطوں، مذاہب اور طبقوں کے لوگوں کو ان سازشوں پر غور کرنا ہوگا اور بھاجپا کے درپردہ ساتھیوں کو یکسر مسترد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے 2015سے آج تک جموں وکشمیر کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کیا اور آنے والے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی اور اس کی اے ، بی اور سی ٹیم کو شکست سے دوچار کرکے یہاں کے عوام کو اپنی ناراضگی کا پیغام دینا ہوگا۔










