شاہراہ بند رہنے سے کاروباروں اور طلبہ کو پریشانیوں کا سامنا / مقامی لوگ
سرینگر //خطہ پیر پنجال کو وادی کشمیر سے جوڑنے والا تاریخی مغل روڑ جو گزشتہ سال ہوئی برفباری کے بعد ہنوز بند ہے کو فوری طو رپر کھولنے کی مانگ بڑھ رہی ہے ۔ ادھر حکام کا کہنا ہے کہ مغل شاہراہ کو بحال کرنے کیلئے کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور جلد ہی اس کو ٹریفک کی آمد رفت کیلئے کھول دیا جائے گا ۔ سی این آئی کو نمائندے پرویز وانی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ خطہ پیر پنجال کو جنوبی ضلع شوپیان کے راستے کشمیر سے جوڑنے والے تاریخی مغل روڑ پر ٹریفک کی نقل و حمل بند پڑی ہوئی ہے اور گزشتہ سال ہونے والی برفباری کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بند کیا گیا تاہم ابھی تک بحال نہیں ہوئی ۔ اس ضمن میں سی این آئی نمائندے سے بات کرتے ہوئے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ شاہراہ کو جلد از جلد کھول دیا جانا چاہئے ۔ شوپیاں اور پیر پنجال کے پونچھ اور راجوری علاقوں کے لوگوں نے سڑک کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں طویل متبادل راستوں سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بندش سے مقامی کاروباروں پر منفی اثر پڑتا ہے اور لوگوں کے سفر میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو پورے علاقے میں خاندانی روابط رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ طلبہ بھی پریشان حال ہے کیونکہ راجوری میں بابا غلام شاہ یونیورسٹی جانے والے طلباء بھی سڑک کی بندش سے متاثر ہوئے ہیں۔آر پار کے رہنے والے لوگوں نے حکام سے برف صاف کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور سڑک کو جلد از جلد ٹریفک کے لیے کھولنے کی اپیل کی ہے۔ادھر حکام کا کہنا ہے کہ برف صاف کرنے کا کام اپنے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جلد فیصلہ کیا جائے گا۔










