ایک لاکھ سے زائد چشمے سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر
سرینگر//جنوبی کشمیر کےضلع اننت ناگ اور کولگام میں قریب 1لاکھ 5 ہزار 2 سو 33 سے زائد چھوٹے بڑے چشمے ہیں جو سرکار کی عدم توجہی اور لوگوں کی خود غرضی کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں جبکہ ایک زمانے میں لوگ ان ہی میٹھے چشموں کا پانی کھانے پینے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر جو آبی ذخائر سے مالامال ہے اور ضلع اننت ناگ جس کا نام بھی اسی وجہ سے پڑا ہے ’’اننت ناگ ‘‘اننت یعنی بے شمار ، ناگ یعنی چشمے۔تاہم اب لوگوں کی خود غرضی اور سرکار کی عدم توجہی نے جنوبی کشمیر کے تمام چشموں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق ضلع اننت ناگ اور کولگام میں قریب 1لاکھ 5 ہزار 2 سو 33 سے زائد چھوٹے بڑے چشمے تھے جن کا میٹھا پانی لوگ کھانے پینے کیلئے استعمال کیا کرتے تھے اْن دنوں نلوں کے پانی کا استعمال کرنے کی لوگوں کو ضرورت نہیں پڑتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں اور سرکار کا دھیان ان قدرتی میٹھے چشموں کی طرف ہٹ گیا جبکہ لوگوںنے ان چشموں کے ارد گرد غلاظت و گندگی ڈالنی شروع کی جس کی وجہ سے ان چشموں کا پانی ناقابل استعمال بن گیا ہے۔ جبکہ سرکار بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ ادھر محکمہ سوائل کنزرویشن کے ایک آفیسر نے نمایندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا اننت ناگ اور کولگام میں کم سے کم ایک لاکھ سے پانچ ہزار کی تعداد میں تھیں۔ تاہم سرکار اور لوگوں کی جانب سے اس طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔انہوںنے کہا کہ اب محکمہ نے ان چشموں کی ہیت اور خوبصورتی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی سرکارکو سفارش بھیج دی گئی ہے جہاں سے مالی معاونت کے بعد ان کی بحالی کیلئے اقدامات اْٹھائے جائیں گے۔ اس دوران انہوں نے مقامی لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ آس پاس کے چھوٹے چشموں کے آس پاس صفائی کا خاص خیال رکھی جائے۔










