پونچھ دھماکہ معاملہ کے بعد ضلع میںسیکورٹی الرٹ

پولیس نے پونچھ دھماکہ کیس میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا

سرینگر///پونچھ کے گرودوارہ میں دھماکے کے بعد سیکورٹی سخت، دو کو اسپتال سے حراست میں لیا گیا۔ ادھر پولیس نے کہا ہے کہ مشتبہ دہشت گردوں کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور حفاظتی گرڈ بہت مضبوط ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق پونچھ نگر کے راجہ سکھ دیو سنگھ ڈسٹرکٹ ہسپتال سے 50 میٹر کے فاصلے پر واقع گرودوارہ منہت صاحب کے باہر منگل کی دیر رات ہوئے دھماکے کے 10 گھنٹے کے اندر، پولیس نے ہسپتال سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان دونوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ڈی آئی جی راجوری پونچھ رینج تیجندر سنگھ بدھ کی سہ پہر پونچھ پہنچے۔ انہوں نے پولیس ہیڈ کوارٹر میں ایس ایس پی یوگل منہاس، اے ایس پی مشیم احمد اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور امن و امان اور دھماکے کے واقعے پر تبادلہ خیال کیا۔ دوپہر میں ڈی آئی جی گرودوارہ مہنت صاحب پہنچے اور جائے واردات کا جائزہ لیا۔انہوں نے ضلع گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی اور گرودوارہ مہنت صاحب کمیٹی کے اراکین سے بات چیت کی۔ گوردوارہ منیجنگ کمیٹی کے سربراہ نریندر سنگھ، اراکین بلبیر سنگھ، راجندر سنگھ اور مہندر سنگھ نے ڈی آئی جی کو بتایا کہ دھماکہ اقلیتی سکھ برادری پر حملہ تھا۔ اس واقعہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ ڈی آئی جی نے یقین دلایا کہ پولیس ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ڈی آئی جی تیجندر سنگھ نے کہا کہ معاملے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ دو مشکوک افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پہلے سورنکوٹ اور اب پونچھ میں ہونے والے دھماکے اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ ضلع میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اس پر ڈی آئی جی نے کہا کہ ہمارا سیکیورٹی گرڈ بہت مضبوط ہے۔ ہم دہشت گردوں کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے راجہ سکھ دیو سنگھ ڈسٹرکٹ اسپتال کے وارڈ سے دو مشکوک افراد کو پوچھ گچھ کے لیے اٹھایا ہے۔ ان کی شناخت یعقوب عرف یوکی (35) اور محمد شبیر عرف شکاری ساکن پنچایت دیگوار تیڈوان کے بطور کی گئی ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ دھماکے کے بعد پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی تلاشی لی تھی۔ اس دوران سیاہ قمیض میں ملبوس ایک شخص کو دو بار گرودوارہ صاحب کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے ان دونوں کو بدھ کی صبح تقریباً 7 بجے اسپتال کے ایک وارڈ سے اٹھایا۔ انکشاف ہوا کہ دونوں ہسپتال میں داخل کیے بغیر ہی سو گئے۔