نسو بدرا گنڈ کے مقام پر نالہ ساندرن پر 6 کروڑ کی لاگت سے بنا پْل بے سود

پْل کے آگے سڑک نہ ہونے سے اس پر لوگوں کی آواجاہی مفقود، لوگوں کا متعلقہ حکام سے توجہ کا مطالبہ

سرینگر//جنوبی کشمیر کے نسو بدرا گنڈ قاضی گنڈ اننت ناگ علاقے میں چھ برس پہلے چھ کروڑ روپے سے تعمیر کیا گیا پْل لوگوں کیلئے بے سود ثابت ہوگیا ہے کیوں کہ پْل کے آگے راستہ موجود ہی نہیں ہے اور ناہی سرکار اس کے آگے راستے یا سڑک تعمیر کرنے میں سنجیدہ ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے قاضی گنڈ علاقے میں نالہ ساندرن پر نسو بدرا گنڈ میں ایک پْل تعمیر کیا گیا جس کی تعمیر 2015 کو مکمل ہوئی تھی اور اس پروجیکٹ پر قریب 6 کروڑ روپے صرف کئے گئے تھے تاہم اس پْل کے آگے سڑک نہ ہونے کے نتیجے میں یہ پْل لوگوں کے لئے بے سود ثابت ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں ایک سماجی کارکن محمد انور بٹ نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پْل کی افادیت تب ہی ہوتی جب اس کے آگے سڑک ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ اس پْل کے آگے صرف ایک سو میٹر کی سڑک کی تعمیر کرنے مطلوب ہے جس کے نتیجے میں یہ پْل ایک طرف سب ڈویڑن ڈورو شاہ آباد سڑک اور دوسری طرف اننت ناگ روڑ سے منسلک ہوجاتا جس کی وجہ سے اس پْل پر ٹریفک چلنا شروع کرتا لیکن سرکار اور متعلقہ محکمہ جات کی غفلت شعاری کے نیتجے میں چھ کروڑ روپے لاگت سے بنا یہ پْل کسی کام کا نہیں رہا ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ اس پْل کی وجہ سے ڈورو اور اننت ناگ میں ٹریفک کا دبائو بھی کم ہوتا کیونکہ اس راستے ٹریفک کو اننت ناگ ٹاؤن پہنچنے میں آسانی ہوتی۔ مقامی لوگوں نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیکر محض ایک سو میٹر کی سڑک کو تعمیر کروائیں تاکہ پل عام لوگوں کی آواجاہی کے کام آئے۔