dry vegetables'

وادی میں سوکھی سبزیوں کی مانگ میں اضافہ

شدید سردیوں کے ساتھ ہی سوکھی سبزیوں، مچھلیوں اور دالوں کی مانگ کافی بڑھ گئی ہے

سرینگر/// وادی کشمیر میں سردیوں کے ساتھ ہی سوکھی سبزیوں، مچھلیوں اور دالوں کی مانگ کافی بڑھ گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید سردیوں میں وادی کشمیر کے بازاروں میں جہاں تازہ سبزیوں کی قلت ہوجاتی ہے وہیں یہ سبزیاں اس قدر مہنگی ہوجاتی ہیں کہ ان کو خریدنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے۔وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق وادی کشمیرمیں ’موسم سرما “شروع ہوتے ہی جہاں گرم ملبوسات اور کانگڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے وہیں سوکھی سبزیوں، مچھلیوں اور دالوں کی مانگ اس وقت شدت اختیار کرکے اہم ترین ضرورت بن جاتی جب بھاری برف باری کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی محصور ہوجاتے ہیں۔وادی میں اگرچہ گذشتہ چند برسوں سے طبی ماہرین کے انتباہ کے پیش نظر سوکھی سبزیوں کی خرید و فروخت میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے لیکن موسم سرما اپنے تیور دکھاتے ہی لوگوں کے پاس ان سبزیوں کے خریدنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے اور قیمتیں بھی۔

اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے شاہنواز علی نامی ایک شہری نے بتایا کہ موسم سرما شروع ہوتے ہی لوگ سوکھی سبزیاں خرید کر گھروں میں رکھتے ہیں تاکہ انہیں بھاری برف باری اور قومی شاہراہ بند ہونے کے وقت پریشانی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ دو تین دہائی قبل لوگ موسم سرما میں زیادہ تر ان ہی سوکھی سبزیوں کوکھانے کے لئے استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اس میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آج زیادہ دیر تک سڑکیں بند نہیں رہتی ہیں اور بازاروں میں تازہ سبزیاں مہنگی ہی صحیح لیکن کچھ روز بعد ہی دستیاب ہوتی ہیں۔

وادی کے بازاروں میں مقامی سوکھی سبزیاں بھی دستیاب ہوتی ہیں اور شمالی ریاستوں خاص کر پنجاب کی سوکھی سبزیاں بھی یہاں میسر ہوتی ہیں۔اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد ملک نامی ایک شہری نے بتایا کہ آج بھی دیہات سے تعلق رکھنے والے لوگ سوکھی سبزیاں اننت ناگ میں بیچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ گھر گھر جا کر سوکھی سبزیاں فروخت کرتے ہیں تو کچھ کسی موزوں جگہ پر بیٹھ کر یہ سبزیاں بیچتے ہیں اور ان کے گرد خریداروں کی ہمشیہ بھیڑ لگی رہتی ہے۔محمد شفیع خان نامی ایک سبزی فروش نے نمائندے امان ملک کو بتایا کہ وادی میں پہلے سبزیوں کی کاشت بہت کم کی جاتی تھی لیکن اب وادی کے کئی علاقوں میں کسان سبزیوں کی اچھی خاصی کاشت کرکے نہ صرف اچھی کمائی کرتے ہیں بلکہ موسم سرما کے دوران سبزیوں کی قلت کو بھی کافی حد تک دور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ بند ہونے سے اب وادی کے بازاروں میں اس قدر سزیوں کی قلت نہیں ہوتی ہے جس قدر دس برس قبل ہو جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ سوکھی سبزیوں کی خرید و فروخت بھی قدرے متاثر ہوئی ہے۔بعض لوگوں کا الزام ہے کہ سوکھی سبزیوں کی کوئی مقرر ریٹ نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کو منہ مانگی ریٹ پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح بازاروں میں تازہ سبزیوں کے لئے باقاعدہ نرخ نامے ہوتے ہیں اسی طرح سوکھی سبزیوں کے لئے بھی ایک نرخ نامہ ہونا چاہئے۔ نیسار احمد بٹ نامی ایک سوکھی سبزیاں فروخت کرنے والے نے بتایا: ’دیہات کی خواتین سبزیوں جیسے شلغم، بیگن، مولی، میتھی، پالک وغیرہ کو سکھاتی ہیں اور پھر اپنے لئے ایک حصہ رکھتی ہیں اور کچھ بیچتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں امیر و غریب سوکھی سبزیاں خریدتے ہیں۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ جس طرح موسم سرما کے دوران شدید سردی سے بچنے کے لئے کشمیری پھیرن اور کانگڑی کا استعمال کرتے ہیں اسی طرح سوکھی سبزیوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے جو اب یہاں کی ایک باقاعدہ روایت بن گئی ہے۔حاجی غلام محمد خان نامی ایک عمر رسیدہ شہری کا کہنا ہے: ’جس طرح ’چلہ کلان‘ اور اس سخت ترین چلہ کے دوران پھیرن اور کانگڑی کا استعمال ہماری ایک روایت ہی نہیں بلکہ ایک شناخت بن گئی ہے اسی طرح سوکھی سبزیوں کا استعمال بھی ہماری ایک روایت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جو کشمیری بیرونی ریاستوں بلکہ بیرونی ممالک میں رہائش پذیر ہیں ان میں سے اکثر سوکھی سبزیاں منگواتے ہیں اور اس پر بے تحاشا خرچہ کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔