موسم بدستور خشک رہنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل وحمل کیلئے کھلے ہیں ، بالائی علاقے ریگستان میں تبدیل
سرینگر//وادی کشمیر میں موسم مسلسل خشک رہنے کی وجہ سے وہ راستے بھی آج کھلے ہیں جو برفباری کے بعد قریب 6مہینوں تک بند رہتے تھے جبکہ میدانی علاقوںکے ساتھ ساتھ بالائی علاقے اب ریگستان بنتے جارہے ہیں ۔ سادھناٹاپ،رازدان ٹاپ،سرینگر لہہ شاہراہ،بانڈی پورہ گریزروڑ،شوپیاں مغل روڑ ، اننت ناگ ڈون روڑ ہمیشہ ہی بھاری برفباری کے بعد ضلعی ہیڈکوارٹروں سے چھ ماہ تک منقطع رہتے تھے تاہم امسال صورتحال بدل گئی ہے اور یہ روڑ چلہ کلاں کے وسط میںبھی کھلے ہیں۔ ادھر ماہرین نے کہاہے کہ اگر موسم اسی طرح خشک رہے گا تو وادی میں پانی کی قلت سے زرعی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کی موسمی صورتحال نے جو پلٹ لی ہے وہ قابل تشویش ہے کیوں کہ اگر برفباری اور بارشیں نہیں ہوں گی توموسم گرمامیں لوگوںکو مشکلات کا سامنارہے گا۔ وادی کے مختلف بالائی علاقوں کی سڑکیں جو اس موسم میں بند رہتی تھی آج کھلے ہے اور ٹریفک کی نقل و حمل ان سڑکوں پر جاری ہے ۔ ،سرینگر لداخ روڑ،سرینگر گریز روڑ،کپوارہ ،کرناہ روڑ۔، اننت ناگ ووڈ ون روڑ۔اننت ناگ کشتواڑ روڑ۔اورشوپیاں مغل روڑ اکتوبر میںبرفباری کے بعد ہی یہ سڑکیں بند ہوا کرتی تھیں اور ان کے بالائی علاقوں میں 25فٹ برف جمع ہوا کرتی تھی تاہم رواںموسم میں ان علاقوں میں ہلکی برفباری ہوئی جو کچھ دنوں بعدہی ختم ہوئی ۔ اس ضمن میں وی او آئی نمائندے امان ملک کئی افراد سے بات کی ۔ گریز کے ایک شہری انوار اقبال کے رہنے والے نے کہاکہ یہ گزشتہ بیس برسوں بعد یہ صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ سال 2000میں اس طرح سے خشک سالی ہوئی تھی اور آج پھر اس صورتحال کامشاہدہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح مڈو ورڈون کے رہنے والے عامر رسول نے کہا کہ برفباری کے بعد ہماراعلاقہ چھ ماہ تک بند رہتا تھا اور سڑک پر بھاری برف جمع ہوا کرتی تھی لیکن آج سڑک پر ایک انچ بھی برف جمع نہیں ہے ۔ اسی طرح کرناہ ٹیٹوال محمد شفیع وانی نے بھی بتایا کہ سادھنا ٹاپ ہمیشہ سرخیوں میں رہتا تھا کیوں کہ یہاں پر برف ہوتی تھی اور آج موسم خشک رہنے کی وجہ سے ٹیٹوال کرناہ جو ضلع ہیڈ کوارٹر سے قصبہ کو ملاتی ہے کھلی ہے اور ٹریفک کی نقل وحمل جاری ہے ۔ اسی طرح کیرن کے اختر حسین چودھری نے بتایا کہ کیرن میں اس وقت قریب 15فٹ سے زائد برف جمع ہوا کرتی تھی لیکن آج سڑکیں بلکل خشک ہے ۔ اسی طرح محمدمظفر ملک چھاتروکشتواڑنے کہا کہ سمتھن ٹاپ مشہور تھاجہاں پر برف زیادہ ہوا کرتی تھی۔پیر کی گلی میں بھی جون جولائی میں بھی برف جمع ہوتی تھا۔رازدان ٹاپ گریز میں سب سے زیادہ برف ہوا کرتی تھی۔ انہوںنے بتایا کہ ایک طرف تمام راستے کھلے ہیں دوسری طرف یہ ایک المیہ سے کم نہیں کہ برفباری نہ ہونے سے یہ علاقے ریگستان میں تبدیل ہورہے ہیں۔










