کہا، کارپوریشن کو اَپنے اَثاثوں کو منافع بخش بنانا چاہیئے
جموں//کمشنر سیکرٹری سیاحت یشا مدگل نے حال ہی میں محکمہ کا چارج سنبھالنے کے بعد آج جموںوکشمیر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ٹی دی سی) کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ٹی ڈی سی کے علاوہ کارپوریشن کے اَفسران اور محکمہ سیاحت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔میٹنگ کے آغاز میں کمشنر سیکرٹری نے کارپوریشن کے کاروبار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اُنہوں نے جے کے ٹی ڈی سی کے لئے آمدنی کو حاصل کرنے میں اس کے اثاثوں، ان کی دیکھ ریکھ اور اِستعمال کے بارے میں دریافت کیا۔ اُنہوں نے کارپوریشن کے عملے کی تعداد اور کارپوریشن کے کاروبار کو کامیابی سے چلانے میں ان کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں بھی پوچھا۔کمشنر سیکرٹری نے افسران پر زور دیا کہ سیاحت کا کاروبار انتہائی منافع بخش ہے اور کارپوریشن کے پاس موجود اثاثے منافع بخش اور قابل قدر ہیں۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ ان تمام اثاثوں کے زیادہ سے زیادہ اِستعمال کے طریقے تلاش کریں تاکہ وہ کارپوریشن کے کاروبار کو دوبارہ منافع بخش بنانے کے لئے اَچھی آمدنی حاصل کرسکیں۔یشا مدگل نے کارپوریشن کو ہدایت دی کہ وہ کارپوریشن کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے باقاعدگی سے بورڈ میٹنگیں باقاعدگی سے منعقد کرے تاکہ اس کی سرگرمیوں کو آسانی سے انجام دیا جاسکے۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ مارکیٹ میں کاروبار کرنے میں مسابقتی ہونے کے علاوہ اپنی تمام پوزیشنوںکو حاصل کرنے میں سرگرم رہیں۔میٹنگ میں کارپوریشن کے اثاثوں کے بارے میں کمشنر سیکرٹری کو جانکاری دی گئی کہ اس میں 36 ہوٹل ہیں جن میں 780 کمرے، 46 ریستوراں، 14 دکانیں، 5 کیفے ٹیریا، 199 ہٹس اور 133ڈورمیٹری رومز، کانفرنس ہالز وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کارپوریشن میں مختلف عہدوں پر عملے کی تعداد 622 ہے۔میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ 2022-23 ء کے دوران مختلف املاک کی اَپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش سمیت متعدد کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ کارپوریشن نے صارفین کی آسانی کے لئے پے ٹیم ایم کے تعاون سے اَپنے 23یونٹوں میں اِی پے منٹ سسٹم بھی نصب کیا ہے۔ کارپوریشن نے اپنے کئی مسائل پر روشنی ڈالی جس میں اہم آؤٹ سٹینڈنگ بھی شامل ہیں۔ اُنہوں نے ان رقوم کو حاصل کرنے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کے لئے اس کے روڈ میپ پر بھی روشنی ڈالی جہاں کارپوریشن آئندہ مالی برس 2024-25 ء سے حقیقی منافع بخش اِدارہ بننے جارہا ہے اور اس کے علاوہ اِس برس بھی نقصانات کو کافی حد تک کم کرے گا۔










