جموں //کمشنر سیکرٹری کوآپریٹیو اور مشن ڈائریکٹر ہولیسٹک ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پروڈکشن (ایچ اے ڈی پی) یشا مدگل نے آج فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) کے کام کاج کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے خطے میں اِقتصادی بااِختیاربنانے، مارکیٹ رَسائی بڑھانے او ردیر پا کاشت کاری کے طریقوں کو فروغ دینے میں ایف پی اوز کے اثرات کا جائزہ لیا۔یشامدگل نے کہا ،’’ ایف پی اوز زرعی منظرنامے میں اہم ادارے ہونے کے ناطے، چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو مضبوط کرنے ، اُنہیں ایک اِجتماعی آواز اور جامع ترقی کے لئے ایک پلیٹ فار م فراہم کرنے میں اہم کردار اَدا کرسکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو ان کی آرگنائزیشنوں سے ایف پی او کے طور پر اکٹھا کرنا، پیداواری لاگت کو کم کرنے، پیداواری صلاحیت میں اِضافہ اور بہتر مارکیٹ سہولیت فراہم کرنے کے لئے سب سے مؤثر ادارہ جاتی میکانزم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی اور دیہی نوجوانوں کے لئے دیہات میں ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔مشن ڈائریکٹر نے خطے میں موجودہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک جامع مطالعہ کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے مقامی زرعی منظرنامے پر موجودہ ایف پی اوز کے اثرات کا تجزیہ کرنے اور کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) کے لئے مستقبل کے مواقع کی نشاندہی کرنے کے لئے ایک جامع مطالعہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اِس مطالعہ میں معاشی ترقی، مارکیٹ میں رَسائی اورفارمنگ کمیونٹی کی سماجی و اِقتصادی ترقی جیسے پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ اِس مطالعے کا اِختتام چیلنجوں سے نمٹنے اور مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لئے سٹریٹجک سفارشات کی تشکیل پر ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کی کہ یہ سفارشات ایف پی اوز کی ترقی اور استحکام کو فروغ دینے کے لئے مستقبل کے اَقدامات اور پالیسیوں کی رہنمائی کریں گی۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ سینٹرل سیکٹر کی ’’فارمیشن اینڈ پروموشن آف 10,000 ایف پی او‘‘ سکیم کے تحت اَب تک 197 ایف پی اوز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ اِس کے علاوہ سیب اَب تک رجسٹرڈ کل ایف پی اوز میں سے ایک چوتھائی (49) کی بنیادی پیداوار ہے جس کے بعد سبزیوں (24) کا نمبر آتا ہے۔ میٹنگ میں رجسٹرار کوآپریٹیو سوسائٹیز (آر سی ایس) جموں، ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری جموں، ڈائریکٹر زراعت وباغبانی جموں، ایڈیشنل آر سی ایس جموںوکشمیر، ریجنل ڈائریکٹر این سی ڈی سی، ڈی جی ایم نبارڈ، ریجنل ہیڈ این اے ایف اِی ڈی، تمام ڈپٹی رجسٹرار اور متعلقہ محکموں کے متعلقہ افسران نے شرکت کی جبکہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے اَفسروں نے بذریعہ ورچیول موڈ میٹنگ میں حصہ لیا۔










