کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے نے منی سیکرٹریٹ گاندربل میں عوامی دربار کی صدارت کی

گاندربل//کمشنر سیکرٹری فوڈ سول سروسز اینڈ کنزیومر افیئرس(ایف سی ایس اینڈ سی اے) زبیر احمد نے آج گاندربل کا دورہ کیا اور انہوں نے وہاں منی سیکرٹریٹ میں ایک عوامی دربار کی صدارت کی اور عام لوگوں کے مسائل اور خدشات کا جائزہ لیا۔عوامی دربار،جو نچلی سطح پر لوگوں سے رابطہ قائم کرنے اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی جاری کوششوں کا ایک حصہ تھا، میں ڈی ڈی سی اراکین، کونسلروں، پی آر آئی نمائندوں کے علاوہ ممتاز شہریوں نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر وائس چیئرپرسن ڈی ڈی سی گاندربل بلال احمد، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل شیامبیر، اے ڈی ڈی سی گاندربل، صدر میونسپل کونسل گاندربل، اے ڈی سی، سی پی او کے علاوہ ریونیو ، بجلی ، صحت ، تعلیم ، پبلک ورکس ، ایس سی ایس اینڈ سی اے ، زراعت اور متعلقہ محکموں سمیت مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اَپنے اَپنے خدشات کو دور کرنے کے لئے موجود تھے۔ اِس موقعہ پر پی آر آئی نمائندوں نے اَپنے علاقوں سے متعلق متعدد خدشات اور ترقیاتی مسائل اُٹھائے جن میں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں سی ٹی سکین کی سہولیت، پاندچھ ۔بیہامہ روڈ کی چوڑائی ، پُلوں، بجلی کی غیر مقررہ کٹوتی، لاری پرنگ واٹر سکیم، متعدد علاقوں میں اضافی راشن سٹوروں، تولہ مولہ میں سڑک کی چوڑائی ، تولہ مولہ میںکوڑاکرکٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، ٹاؤن کی خوبصورتی، ٹاؤن میں تجاوزات کا خاتمہ اور عوام کے دیگر مسائل شامل ہیں۔ اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری نے خطاب کرتے ہوئے عوامی رسائی کیمپوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ اجتماعات شہریوں کو اَپنی شکایات کا اِظہار کرنے اور حکومت کو مناسب ذرائع سے ان کے حل میں تیزی لانے کا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔زبیراحمد نے عوام کی ترقی اور بہبود کے تئیں حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اُنہیں یقین دِلایا کہ ان کے خدشات کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور مختلف سکیموں کے تحت مقررہ وقت میں ان کا ازالہ کیا جائے گا کیوں کہ حکومت کے پاس دستیاب محدود وسائل کی وجہ سے ایک ہی وقت میں تمام مطالبات کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔اُنہوں نے سرکاری افسران پر زور دیا کہ وہ عوام کے لئے قابل رسائی رہیں اور مختلف اہم پروجیکٹوں بالخصوص جل شکتی، آر اینڈ بی اور پی ایم جی ایس وائی سے متعلق منصوبوں کی تکمیل کے لئے مقررہ ٹائم لائن مقرر کریں۔ اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری نے ضلع میں راشن کی تقسیم کے بارے میں دریافت کیا اور مقامی لوگوں نے اعتراف کیا کہ راشن کوٹے کے مطابق اچھے معیار کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے اور اُنہوں نے تمام زُمروں میں راشن کا اضافی کوٹا کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے متعدد غیر اہل گھرانوں کو اے اے وائی راشن کارڈ دینے کا مسئلہ بھی اُٹھایا جس کے لئے کمشنر سیکرٹری نے ضلع اِنتظامیہ سے کہا کہ وہ تمام زُمروں میں راشن کارڈوں کی تصدیق کریں تاکہ بوگس راشن کارڈوں ہٹایا جاسکے اور گھرانوں کو حق کے مطابق راشن کارڈ مل سکیں۔ اِس موقعہ پر پی آر آئیز نے ضلع میں گزشتہ 4برسوں سے رجسٹرڈ ترقیاتی سرگرمیوں کے علاوہ مختلف اِستفادہ کنندگان پر مبنی سکیموں اور فلیگ شپ پروگراموں کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی جنہوں نے ان کامیابیوں کے لئے ضلعی اِنتظامیہ کی سراہنا کی۔سی ایم او گاندربل نے ضلع اسپتال میں ایس ٹی کین کی سہولیت کے بارے میں بتایا کہ ڈی ایچ اور ایس ڈی ایچ کنگن کے لئے 2 سی ٹی سکین منظور کئے گئے ہیں جنہیں بہت جلد خرید لیا جائے گا۔ اِسی طرح ایگزیکٹیو انجینئر جے کے پی ڈی سی ایل نے بتایا کہ ضلع میں پہلے ہی کافی تعداد میں بفر ٹرانسفارمر دستیاب ہے ۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ نے پہلے ہی کٹوتی کا شیڈول تیار کیا ہے لیکن متعدد فیڈروں اور ریسونگ سٹیشنوں پر اوور لوڈنگ کی وجہ سے فیلڈ سٹاف کٹوتی شیڈول پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہے ۔زبیر احمد ضلع میں بجلی کی غیر مقررہ کٹوتی پر جواب دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ موسم سرما میں بجلی کا منصفانہ اِستعمال کریں تاکہ بجلی کی غیر مقررہ کٹوتی سے بچا جا سکے اور ٹرانسفارمروں کو اوور لوڈنگ سے بچایا جا سکے جو بجلی کی غیر شیڈول کٹوتی کی بڑی وجہ ہے۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے عوامی دربار میں فعال شرکت پر پی آر آئیز اور مقامی کی تعریف کی اور اُن پر زور دیا کہ وہ سوچھتا ہی سیوا اور نشا مُکت مہم جیسی دیگر مہمات میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیں اور اِس مقصد سے تیسری درجے سطحی پی آر آئی نظام قائم کیا گیا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی بھی علاقہ نظر انداز نہ ہو ۔ انہوں نے سب پر زور دیا کہ وہ مثبت تبدیلی کے لئے اہم کردار ادا کریں۔