بریسٹ کینسر سے نجات حاصل کرنے کے لئے ماہرین نے جانکاری فراہم کی
سرینگر//بریسٹ کینسر کے بارے میں زرعی یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک روزہ ورک شاپ کااہتمام انکالوجی کے ماہرڈاکٹروں نے بریسٹ کینسر کے بارے میں لوگوں کو جانکاری فراہم کی ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق کینسر سوسائیٹی آف کشمیر نے زرعی یونیورسٹی شالیمار کے اشتراک سے بریسٹ کینسر سے محفوظ رہنے کے لئے ایک روزہ ورک شاپ کا اہتمام کیا۔اس ورکشاپ میں مختلف مکتب ہائی فکرسے تعلق رکھنے والی خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعے پرکینسرکے ماہرڈاکٹروں نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ وادی کشمیرمیں یہ بیماری کئی وجوہات کی بناء پر تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور اگر اسکابھروقت سدباب نہ کیاجائے مریض فوری طور پرڈاکٹر کے پاس نہ پہنچے توایسے مریض کی موت بھی واقع ہوتی ہے تاہم اگربر وقت علاج ملے تو یہ کوئی بڑی بیماری نہیں ہے جسکاعلاج نا کیاجاسکے ۔ماہرڈاکٹروںنے کہا پچھلے کئی برسوں سے سینکڑوں کی تعداد میں بریسٹ کینسر میں مبتلاخواتین نے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کورُخ کیااور بڑی تعداد میں خواتین کواس بیماری سے نجات دلائی ایسااس لئے کہ ان کا بر وقت علاج ہو ۔ماہرڈاکٹروں نے اس بات پرزوردیاکہ خاتون یا دوشیزاؤں کوچاہئے کہ وہ اگر اپنے سینے پر کسی بھی طرح کی کوئی غیرمعامولی چیز پاتے ہیں توانہیں فوری طور رپر ماہرڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ کرناچاہئے بر وقت ٹیسٹ ہونے سے اس بات کی جانکاری مل سکے گی کہ آ یاکہ بریسٹ کینسر ہے یانہیں اگر بریٹ کینسرہوگا اس کاعلاج ممکن ہے ۔ماہرڈاکٹروں نے کہا نئے دورمیں کئی خواتین اپنے بچوں کودودھ نہیں پاتی ہے بڑی عمر کے بعدشادی کی طرف توجہ دیتے ہے۔ ماہرڈاکٹروں نے کہاکہ خواتین کو اپنے صحت کاخاص خیال رکھناچاہئے جسکے لئے لازمی ہے کہاگروہ کوئی غیرمعامولی چیز اپنے آپ میں محسوس کرتی ہیں توانہیں ڈاکٹروں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہئے ا سمیں شرم کی بات نہیں ہے۔ کینسر سوسائٹی کے ذمہ داروں نے کہاکہ ہم ایسے بیماروں کا علاج کرنے میں کوئی گریز نہیں کرتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ کوئی آگے تو آئیں۔ ماہرین نے ا س بات پربھی زور دیاکہ دور دراز علاقوں میں ماہرلیڈی ڈاکٹروں مرد ڈاکٹروں کی ٹیموں کوروانہ کیاجانا چاہئے جوکیمپ قائم کر کے ا سطرح کے مریضوں کی نشاندہی کی جاسکے تاکہ ان کابر وقت علاج ہوسکے اور ان کی زندگی بچ سکے ۔










