ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ نے ڈاکٹ بنگلہ میں ’ این سی او آر ڈی ‘ میٹنگ منعقد کی

ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر نے منشیات سمگلنگ کے ہاٹ سپاٹ کی شناخت کیلئے اِنٹلی جنس نیٹ ورک تیار کرنے پر زور دیا

بارہمولہ//ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر کی صدارت میں آج یہاں ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں ضلع میں منشیات کی بدعت سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنے اور متعلقہ محکموں کی جانب سے کنٹرول اَقدامات کے سلسلے کی گئی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے نار کوٹکس کوآڑڈی نیشن کی ضلعی سطح کمیٹی کی دسویں میٹنگ منعقد ہوئی۔میٹنگ میں متعلقہ محکموں کی جانب سے ضلع میں منشیات کی روکتھام کے حوالے سے کئے گئے اَقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ اس میں منشیات کی لت کے واقعات ، تشویش کے علاقوں ، عادی اَفراد کی عمر کے گروپ ، منشیات کے اِستعمال کے گرم مقامات اور بارہمولہ ضلع میںڈرگ رِی ہیبلٹیشن سینٹروں کی صورتحال پر بھی تفصیلی بحث و تمحیص ہوئی۔دورانِ میٹنگ ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر نے ضلع میں منشیات کے اِستعمال کے مرتکب اَفراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پر زور دیا اور ضلع بھر کے تمام تعلیمی اِداروں کے 200میٹر کے دائرے میں تمباکو کی فروخت پر پابندی کی عمل آوری کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی بدعت پر قابو پانے کے لئے اِجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور منشیات کے اِستعمال میں ملوث اَفراد کی بحالی کے لئے تمام شراکت داروں کو مِل کر کام کرنا ہوگا۔ڈاکٹر سیّد سحرش اَصغر نے محکمہ اِمورِ نوجوان و کھیل کود پر زور دیا کہ وہ مختلف سرگرمیوں میں نوجوانوں کے کلبوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں جن کا مقصد منشیات کی بدعت کے خاتمے میںمدد کرنا ہے۔اُنہوں نے نوجوانوں کو منشیات کے اِستعمال کے خطرات او رمنفی نتائج سے آگاہ کرنے کے لئے سکولوں او ریونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم کے اِنعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔دریں اثنأ ،چیئر کو یہ بھی جانکاری دی گئی کہ ضلع میں حکومت ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف میڈیکل شاپوں کو سیل کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ 170 کنال خشخاش کی کاشت پہلے ہی تلف کی گئی ہے ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ منشیات کے خاتمے کی مہم کے دوران مجرموں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہیں۔میٹنگ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بارہمولہ ظہور احمد رینہ ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوپور شبیر احمد رینہ ، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ پٹن اور اوڑی کے علاوہ تمام محکموں کے دیگر متعلقہ اَفسران موجود تھے۔