article 370

دفعہ370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیرمیں ہر سطح پر مثبت تبدیلی اورترقی پسندانہ رُجحان

سری نگر//سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا، جو سپریم کورٹ میں آرٹیکل370 کیس میں مرکز کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیرمیں صنعتی ترقی کیلئے 28,400کروڑ روپے کی مرکزی سیکٹر اسکیموں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے، جب کہ مرکزی حکومت کی کوششوں سے 78000 کروڑ روپے کی دیگر نجی سرمایہ کاری کی تجاویز بھی دی گئی ہیں اور 2153مالی سال2022-23کے دوران 2153 کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں پروجیکٹوں کے قیام کے بارے میںسالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت58,477 کروڑ روپے کے 53 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی تھی جن میں سے32 پروجیکٹ پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعد سیاحت کو فروغ دینے کے حولے سے انہوں نے کہاکہ سال2022کے دوران 1.88 کروڑ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2023 کے دوران اب تک ایک کروڑ سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی ہے۔آئی ٹی پہل کے نتیجے میں شفافیت کے بارے میں سالیسٹر جنرل کاکہناتھاکہ 2018-19 کے دوران پروجیکٹوں کی ای،ٹینڈرنگ اور ای،ادائیگی میں 9229 کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کیے گئے، جبکہ مالی سال2022-23 کے دوران پروجیکٹوں کی ای،ٹینڈرنگ میں 92,560 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر میں زمین کے ریکارڈ سمیت پہلی بار تقریباً 450سے زیادہ خدمات آن لائن کی گئی ہیں۔