بھارت نے کیاچاند فتح ، اب سورج پرقدم جمانااگلا مشن!

سیٹلائٹ تیار، 2 ستمبر کو صبح 11.50 بجے سری ہری کوٹا سے لانچنگ

سری نگر//چاند کی سطح پر چندریان3 کی کامیاب لینڈنگ کے بعد ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے اسرو کے سائنسدانوں نے اپنی نظریں اپنے اگلے ہدف یعنی سورج پر مرکوز کر دی ہیں۔ جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق شمسی تحقیق کیلئے ہندوستان کا پہلا خلائی مشن آدتیہ ایل ون سری ہری کوٹا میں ملک کے مرکزی خلائی اسٹیشن سے لانچ کیلئے تیار ہے۔ آدتیہ ایل ون خلائی جہاز سورج کی بیرونی تہہ کا دور دراز سے مشاہدہ کرنے اور شمسی ماحول کا مطالعہ کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ شمسی ہواوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کرے گا، جو زمین پر ہنگامہ خیزی کا باعث بن سکتی ہیں اور اسے عام طور پر’’ارورہ‘‘کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔ISROکے سربراہ ایس سومناتھ نے کہا کہ سیٹلائٹ تیار ہے اور پہلے ہی سری ہری کوٹا پہنچ چکا ہے۔ خلائی ایجنسی نے 2ستمبر کو اس کے لانچ کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کو 2 ستمبر کو صبح 11.50 بجے سری ہری کوٹا سے لانچ کیا جائے گا۔ نیز عام لوگوں کو سری ہری کوٹا لانچ ویو گیلری سے اس کی لانچنگ دیکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آدتیہ ایل ون ہندوستان کے ہیوی ڈیوٹی لانچ وہیکل پی ایس ایل وی پر سوار ہوکر1.5 ملین کلومیٹر کا سفر کرے گا۔ ایس سومناتھ نے بتایا کہ لانچ کے بعد اسے زمین سے لگرینج پوائنٹ1 (ایل ون ) تک پہنچنے میں125 دن لگیں گے۔ ہمیں تب تک انتظار کرنا ہوگا۔بتادیں کہ اسرو نے خلائی انجینئرنگ میں دنیا کو مات دینے والی لاگت مسابقت کے لیے شہرت حاصل کی ہے۔ چندریان3 مشن کیلئے صرف 600 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ وہیں آدتیہ-ایل 1 ، چندریان3 کی تقریباً نصف لاگت سے بنایا گیا ہے۔حکومت نے سورج کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے مشن کیلئے سال 2019 میں378 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔ حالانکہ اسرو نے ابھی تک لاگت کے بارے میں کوئی آفیشل اپ ڈیٹ نہیں دیا ہے۔ اسرو کے مطابق آدتیہ ایل ون سات پے لوڈ لے کر جائے گا، جو فوٹو اسفیئر(سورج کی نظر آنے والی سطح)، کروموسفیئر (مرئی سطح کے بالکل اوپر) اور سورج کی سب سے بیرونی تہہ (کورونا) کا الگ الگ مشاہدہ کرنے میں مدد کرے گا۔