کانگریس نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ جنوبی ریاست کرناٹک کا بار بار دورہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں بی جے پی کس قدر کمزور ہے۔ دراصل کرناٹک میں اسمبلی انتخاب 10 مئی کو ہونے جا رہا ہے اور سبھی پارٹیوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس درمیان کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام نے بی جے پی حکومت کو گرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے بھگوا پارٹی کے لیڈران بھی جانتے ہیں اور اسی لیے بی جے پی کے مرکزی لیڈران بار بار ریاست کا دورہ کر رہے ہیں۔شیوکمار نے کہا کہ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم ہیں اور وہ جتنی بار چاہیں ریاست میں آ سکتے ہیں۔ لیکن اچانک انتخاب قریب آتے ہی وہ جس طرح انتخابی تشہیر کے لیے کرناٹک کا بار بار دورہ کر رہے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کتنی کمزور ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان سبھی کوششوں سے بی جے پی لیڈروں نے پہلے ہی شکست مان لی ہے۔ ریاست کے ووٹر دانشمند ہیں اور وہ حکومت بدلنے جا رہے ہیں، چاہے کوئی بھی ریاست کا دورہ کرے۔کانگریس لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چونکہ وہ عوام کو متوجہ کرنے میں کامیاب نہیں ہیں، اس لیے بی جے پی لیڈر فلم اداکاروں کو اپنے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ شیوکمار کا کہنا ہے کہ کانگریس امیدواروں کے خلاف ای ڈی کا استعمال کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پولیس بھی بی جے پی کے ایجنٹ کی شکل میں کام کر رہی ہے۔ میں نے ایسے افسران کی ایک فہرست تیار کرنے کو کہا ہے۔ ایسا وہ صرف 40 دنوں تک ہی کر سکتے ہیں۔










