منشیات کی اسمگلنگ نوجوانوں اور علاقائی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ/ وزیر اعظم مودی
سرینگر / این این بی // دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر متحدہ اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہوگا، جس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی کو فروغ دینے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا نظام شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کے ”دوہرے معیار“کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔نیشنل نیوزبیورو ( این این بی ) کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 26ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی صرف کارروائی اور جوابی کارروائی تک محدود نہیں رہ سکتی۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کے بنیادی ڈھانچے اور پورے ماحولیاتی نظام کو نشانہ بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا”ہمیں دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہوگا، جس میں اس کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی اور محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔ ہمیں ایک آواز میں یہ کہنا ہوگا کہ اس سنگین مسئلے پر دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔“وزیر اعظم نے کہا کہ جو ممالک دہشت گردی کو اپنی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ یا حمایت فراہم کرتے ہیں، انہیں واضح پیغام دیا جانا چاہیے کہ دہشت گردی کسی بھی ملک کے لیے ”اسٹریٹجک اثاثہ“ نہیں بن سکتی۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں، باہمی تعاون اور بروقت کارروائی کو مزید مو ¿ثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ امن اور سلامتی ایس سی او کے حوالے سے ہندوستان کے ویژن کا پہلا اور بنیادی ستون ہے، جبکہ رابطہ اور مواقع بھی اس وڑن کے اہم حصے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کو خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق تنظیم کی کامیابی کا مقصد صرف سکیورٹی تعاون تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے فوائد براہ راست عام لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ایک پرامن اور محفوظ یوریشیا کے لیے افغانستان میں امن اور استحکام بھی انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان افغانستان کے عوام کی ترقی اور انسانی امداد کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے افغانستان میں امن، استحکام اور عوامی بہبود کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا تنازع صرف اسی خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات عالمی سطح پر توانائی سلامتی، بحری تجارت اور سپلائی چین کو متاثر کرسکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ گلوبل ساو ¿تھ کے ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کا واضح موقف ہے کہ کشیدگی اور جنگوں کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ اختلافات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔وزیر اعظم نے منشیات کی اسمگلنگ کو نوجوان نسل اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اس شعبے میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کے خطرات، منظم جرائم، معلوماتی سلامتی اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ایس سی او کے تحت قائم مختلف میکانزم کو مزید مو ¿ثر بنایا جانا چاہیے۔مودی نے کہا کہ ان ادارہ جاتی نظاموں کو محض رسمی پلیٹ فارم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تعاون، مشترکہ اقدامات اور بروقت کارروائی کے مو ¿ثر ذرائع میں تبدیل کرنا ہوگا۔وزیر اعظم نے ایس سی او کے تعاون کے فوائد عام لوگوں تک براہ راست پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے عوام کے مضبوط روابط کو تنظیم کے آئندہ تعاون کا مرکزی حصہ بنایا جانا چاہیے۔وزیر اعظم مودی نے کہا”ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہمارے عوام کے درمیان تعلقات ہیں۔ ہندوستان کے لیے ایس سی او عظیم تہذیبوں، ثقافتوں اور خیالات کا سنگم ہے۔“انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے اگلے 25 برسوں میں عوامی روابط کو تعاون کے مرکز میں رکھا جانا چاہیے اور تنظیم کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کی کوششوں سے نوجوانوں کے لیے کتنے نئے مواقع پیدا ہوئے، تاجروں کے لیے کتنی نئی منڈیاں کھلیں، کسانوں کو ٹیکنالوجی سے کتنا فائدہ پہنچا اور عام شہریوں کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔مودی نے کہا کہ علاقائی تعاون کا اصل مقصد عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع، تاجروں کے لیے نئی منڈیوں اور کسانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو علاقائی تعاون کی کامیابی کا اہم پیمانہ قرار دیا۔










