جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کا 10روزہ خزان اجلاس ، تیاریاں جاری

ڈیلی ویجروں کی مستقلی، کم از کم اجرت اور ٹرانسفر پالیسی سے متعلق بل بھی جمع

سرینگر / این این بی // رواں ماہ کی 21تاریخ سے دس روزہ جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس کیلئے تیاریاں زوروں پر جس دوران 83 ارکان میں سے صرف 20 نے نجی بل جمع کرائی ہے ۔ اس دوران بجٹ اجلاس سے متعلق 49 پرائیویٹ ممبرز بل پہلے ہی زیر التوا ہیں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق قانون سازی کو مقننہ کا بنیادی فریضہ قرار دیے جانے کے باوجود جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ خزاں اجلاس کے لیے صرف 20 ارکان نے پرائیویٹ ممبرز بل جمع کرائے ہیں، جبکہ 83 اہل ارکان میں سے 63 ارکان نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔واضح رہے کہ اسمبلی کا خزاں اجلاس 21ستمبر سے سرینگر میں شروع ہونے والا ہے۔ذرائع کے مطابق 90 رکنی اسمبلی میں 83 ارکان کو 25 اگست تک ایک ایک نجی بل جمع کرانے کا حق حاصل تھا۔ قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ بلیٹن میں ارکان کو اس سلسلے میں مطلع کیا گیا تھا۔ ایوان میں وزیراعلیٰ سمیت چھ وزراءاور اسپیکر بھی شامل ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق آئندہ اجلاس کے لیے صرف 20ارکان نے ایک ایک نجی بل جمع کرایا ہے، جبکہ باقی 63 ارکان نے کوئی نیا نجی بل پیش نہیں کیا۔ اس دوران بجٹ اجلاس سے متعلق 49پرائیویٹ ممبرز بل پہلے ہی زیر التوا ہیں۔ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان نے نجی بل کم جمع کرانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں پرائیویٹ ممبران بل اکثر پیش ہی نہیں ہو پاتے اور اگر کوئی رکن انہیں متعارف کرانے پر اصرار کرے تو کئی مرتبہ وہ ابتدائی مرحلے ہی میں مسترد کردیئے جاتے ہیں۔ایک رکن اسمبلی نے بتایا کہ رواں سال فروری سے اپریل کے دوران جموں میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دو مرحلوں میں 70سے زائد پرائیویٹ ممبرز بل جمع ہوئے تھے۔ قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ نے ان بلوں کے لیے دو دن مختص کیے تھے، تاہم ان میں سے تقریباً 20 سے 25 بلوں کو ہی زیر بحث لایا گیا اور صرف ایک یا دو بلوں کو پیش کرنے کی اجازت مل سکی۔انہوں نے کہا کہ ان میں حکمران جماعت کے رکن تنویر صادق کا سرکاری اراضی کی لیز کی تجدید کی اجازت سے متعلق بل بھی شامل تھا، جبکہ دیگر کئی بل پیش کیے جانے کے مرحلے پر ہی مسترد ہوگئے۔کچھ ارکان نے آئندہ اجلاس کے لیے نئے نجی بل اس امید پر جمع نہیں کرائے کہ بجٹ اجلاس کے دوران زیر التوا رہنے والے ان کے بل خزاں اجلاس میں خود بخود آگے بڑھائے جائیں گے۔اس سلسلے میں اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے فیصلہ کیا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران زیر التوا رہ جانے والے تمام پرائیویٹ ممبرز بلوں کو آئندہ خزاں اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔بی جے پی رکن اسمبلی پون گپتا نے اپنے نجی بل کے ذریعے ایسے تمام ڈیلی ویجروں کو مستقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے جنہوں نے سات سال کی سروس مکمل کرلی ہے۔اسی طرح بی جے پی کے رکن آر ایس پٹھانیا نے تمام زمروں کے ملازمین کیلئے کم از کم اجرت نافذ کرنے اور سات سال کی سروس مکمل کرنے والے تمام ڈیلی ویجرز کو خودکار طور پر مستقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔سی پی ایم کے پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے جموں و کشمیر میں تمام سرکاری ملازمین کیلئے جامع ٹرانسفر پالیسی نافذ کرنے کے حوالے سے نجی بل پیش کیا ہے۔تاریگامی کے بل میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے تبادلوں میں من مانی اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا ضروری ہے، کیونکہ یہ بہتر حکمرانی کے لیے لازمی ہے۔قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نے ابھی تک خزاں اجلاس کے لیے کاروباری امور کا حتمی کلینڈر جاری نہیں کیا ہے، تاہم امکان ہے کہ اجلاس کے دوران سات سے آٹھ نشستیں منعقد ہوں گی اور یہ اجلاس تقریباً 10 روز تک جاری رہ سکتا ہے۔اسمبلی سیکریٹریٹ اس وقت حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے سرکاری کاروبار اور مجوزہ قانون سازی کی تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد اجلاس کا حتمی کلینڈر تیار کیا جائے گا۔