متعدد مطالبات حل نہ ہونے پر احتجاج
سرینگر//ٹی ای این / بینک ملازمین کی بڑی یونینوں کی نمائندہ تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے اپنے زیر التوا مطالبات کے حل میں پیش رفت نہ ہونے پر 11 ستمبر کو ملک گیر ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ یونینوں نے ستمبر کے آخر میں بھی تین روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔ یونینوں کے مطابق بینکوں میں پانچ روزہ کام کے ہفتے کے نفاذ میں تاخیر، پرفارمنس لنکڈ انسینٹیو یعنی کارکردگی سے منسلک ترغیبی نظام میں اختلافات اور پنشن سے متعلق متعدد مطالبات اب بھی حل طلب ہیں۔ یونینوں کا کہنا ہے کہ ان معاملات پر حکومت اور بینک انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے باوجود خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے 11 ستمبر کے بعد 28 سے 30 ستمبر تک تین روزہ ہڑتال کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر مطالبات پر کوئی قابلِ قبول پیش رفت نہ ہوئی تو یونینوں نے 26 اکتوبر 2026 سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کرنے کی بھی وارننگ دی ہے۔ بینک یونینوں کی اس کارروائی سے ملک بھر میں بینکاری خدمات متاثر ہونے کا امکان ہے، خصوصاً سرکاری بینکوں کی شاخوں میں صارفین کو لین دین، چیک کلیئرنس اور دیگر شاخی خدمات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم آن لائن بینکاری، موبائل بینکنگ اور اے ٹی ایم جیسی ڈیجیٹل خدمات معمول کے مطابق دستیاب رہنے کی توقع ہے، اگرچہ کسی مقامی سطح کی رکاوٹ کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔یونینوں کا کہنا ہے کہ پانچ روزہ بینکاری نظام کا نفاذ ملازمین کا اہم مطالبہ ہے، جبکہ پنشن سے متعلق مسائل اور ترغیبی نظام میں مبینہ عدم مساوات بھی فوری توجہ چاہتے ہیں۔ 11 ستمبر کی ہڑتال جمعہ کے روز ہوگی اور اس کے بعد ہفتہ و اتوار کی تعطیلات ہونے کے باعث بعض علاقوں میں بینک شاخوں کی خدمات مسلسل کئی دن متاثر ہوسکتی ہیں۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ضروری بینکاری کام ہڑتال سے قبل مکمل کرلیں۔










