چیف سیکرٹری کی سربراہی میں یوٹی ایچ پی ایس سی نے اَربن چیلنج فنڈ کے تحت 2,692.58 کروڑ روپے کے اَربن ٹرانسفارمیشن پروجیکٹوں کی منظور ی دِی

چیف سیکرٹری کی سربراہی میں یوٹی ایچ پی ایس سی نے اَربن چیلنج فنڈ کے تحت 2,692.58 کروڑ روپے کے اَربن ٹرانسفارمیشن پروجیکٹوں کی منظور ی دِی

سری نگر//جموں و کشمیر میںدیرپا اور سرمایہ کاری پر مبنی شہری تبدیلی کو تیز کرنے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پریونین ٹیریٹری لیول ہائی پاورڈ سٹیئرنگ کمیٹی (یوٹی ایچ پی ایس سی) جس کی صدارت چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کر رہے تھے، نے مرکزی حکومت کے شہری چیلنج فنڈ (یو سی ایف) کے تحت 2,692.58 کروڑ روپے کی مجموعی بنیادی لاگت کے تین بڑے شہری ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔میٹنگ میں اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران نے شرکت کی جن میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ٹوراِزم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ، پرنسپل سیکرٹری کلچر، کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ (ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی)،صوبائی کمشنران ، کمشنران جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) اور سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) سمیت دیگر متعلقہ اَفسران شامل تھے ۔مکانات و شہری ترقی محکمہ(ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی) کی طرف سے جن منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں جموں میںٹی اے آر اے این جی( توی ائیریا رِی جنریشن اینڈ گرین گروتھ سری نگر میںوالڈ سٹی اینڈ نگین لیک فرنٹ ریوائٹیلائزیشن اور رِیاسی میں کے آر آئی پی اے(کٹرا رِی وائٹیلائزیشن تھرو اِنٹگریٹیڈ پلگرمیج)شامل ہیں۔ان منصوبوں کا مقصد عوامی سرمایہ کاری کو مارکیٹ سے منسلک مالیاتی اور نجی شراکت داری کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے جدید، دیرپا، معاشی طور پر متحرک اور بہتر شہری مقامات تشکیل دینا ہے۔اِن منصوبوں کی منظوری جموں و کشمیر میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تبدیل کرنے کے لئے اَربن چیلنج فنڈ کے فریم ورک سے فائدہ اُٹھانے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لئے اِدارہ جاتی، بلدیاتی اور نجی سرمایہ کاری کے اِضافی ذرائع کو متحرک کرنے میں بھی مدد ملے گی۔تخمینہ شدہ لاگت1,567.91 کروڑ روپے کے ساتھ ترنگ(ٹی اے آر اے این جی) توی دریا کے کنارے اور آس پاس کے شہری علاقوں کی مکمل تجدید کرنا ہے جس میں عوامی بنیادی ڈھانچے اورپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ( پی پی پی) کے تحت تجارتی ترقی کو یکجا کیا گیا ہے۔ اِس منصوبے کے فنڈنگ ڈھانچے میں مرکزی حکومت اور یوٹی حکومت میں سے ہر ایک 307.05 کروڑ روپے فراہم کرے گی جبکہ 953.81 کروڑ روپے مارکیٹ اور پی پی پی فائنانسنگ کے ذریعے جمع کرنے کی تجویز ہے۔پی پی پی جزو کے ذریعے ایک ہائی اینڈ رہائشی گروپ ہاؤسنگ پروجیکٹ، ایک اعلیٰ درجے کا ہوٹل، ایک جدید ریٹیل مال اور متعلقہ لیفٹ بینک روڈ اِنفراسٹرکچر کی ترقی ممکن ہوگی۔ مرکزی جزیرہ بھی لگژری ریزورٹ اثاثہ کی ترقی کے ذریعے فعال کیا جائے گا۔ اِس منصوبے میں دریا کے تحفظ اور ساختی کاموں کے لئے وسیع اِنتظامات بھی شامل ہیں جن میں ڈایافرام کی دیوار، کناروں کی بھرائی، اینکر سلیب کے ساتھ ریٹیننگ وال اور انٹرسیپٹر ڈرینج اِنفراسٹرکچر شامل ہیں۔والڈ سٹی اور نگین لیک فرنٹ ریویٹالائزیشن پروجیکٹ جس کی تخمینہ لاگت 1,010.77روپے کروڑ ہے،یہ منصوبہ سری نگر کے تاریخی شہری مرکز کو نئی زِندگی بخشنے اور تاریخی شہر کے اندرونی علاقوں میںواقع اس کے لیک فرنٹ خطوں کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا ہدف رکھتا ہے۔تقریباً 300.77 کروڑ روپے بنیادی عوامی بنیادی ڈھانچے اور تاریخی شہر کی بحالی پر خرچ کئے جائیں گے جبکہ پی پی پی کا حصہ ہاسپٹلٹی سینٹر، پوکریبل لیک فرنٹ اور ایک پریمیم فائیو سٹار بوتیک ہوٹل کی ترقی میں معاونت کرے گا۔ریاسی میں کٹرا ریوائٹلائزیشن تھرو اِنٹگریٹیڈ پلگرمیج امینیٹیز (کے آر آئی پی اے) منصوبہ جس کی تخمینی لاگت 113.90 کروڑ روپے ہے، کٹرا میں یاتریوں کی سہولیات، موبائلٹی مینجمنٹ اور اِدارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر توجہ مرکوز کرے گا۔ایک اہم جزو کٹرا گیٹ وے سینٹر ہے، جس کا تصور 10.17 کنال کی جگہ پر 5+2 منزل کے مخلوط استعمال کی سہولت کے طور پر کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 1.39 لاکھ مربع فٹ تعمیر شدہ رقبہ ہے۔ اس میں 480 بستروں کے ساتھ 36 ڈارمیٹریز، 35 گیسٹ روم، ریٹیل آؤٹ لیٹس، ایک کمیونٹی ڈائننگ ہال اور مخصوص عبادت گاہیں شامل ہوں گی ۔اِس پروجیکٹ میں مزید 15.25 کروڑ روپے فراہم کئے گئے ہیں تاکہ ادارہ جاتی تبدیلی کی جا سکے جس میں جدید کمرشل دفاتر، ریٹیل کیوسک اور میونسپل کمیٹی، کٹرا کے لئے اَپ گریڈ شدہ اِنتظامی سہولیات شامل ہیں۔پارکنگ اور ٹریفک کی بھیڑ سے نمٹنے کے لئے اس منصوبے میں 365 مساوی کار جگہوں کی گنجائش کے ساتھ ایک ملٹی لیول کار پارکنگ سہولیت، اِی وِی چارجنگ اِنفراسٹرکچر اور یاترا پرچی کاؤنٹر کے قریب مخصوص بس بے بھی شامل ہیں۔یہ تینوں منصوبے یو سی ایف کے اس زور کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومتی اِمداد کو مارکیٹ پر مبنی مالیاتی وسائل کے ساتھ ملا کر قابلِ عمل اور سرمایہ کاری کے لئے تیار شہری منصوبے تیار کئے جائیں۔ اِس طریقہ کار کا مقصد صرف جدید شہری بنیادی ڈھانچہ بنانا نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے اثاثے دیرپا اِقتصادی سرگرمی اور طویل مدتی آمدنی پیدا کریں۔کمیٹی نے منظور شدہ منصوبوں کی بروقت، معیاری اور مالی طور پر دیرپا تکمیل کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اَقدامات شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹیشن ، سیاحت اور اِقتصادی سرگرمی کو نمایاں طور پر بڑھائیں گے جبکہ جموں، سری نگر اور کٹرا میں نئے عوامی مقامات اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا کریں گے۔