سکل کورسز میں توسیع ،مؤثر جی آئی ٹریس ایبلٹی اور ٹیکنالوجی پرمبنی اُجرت کی اسسمنٹ کی ہدایت
سری نگر//تقریباً 5لاکھ کاریگروں اور بُنکروں کے رجسٹرڈ ہونے اور مالی برس 2025-26میں دستکاری کی برآمدات اربوںروپے تک پہنچ گئی ہے،جموں و کشمیر اپنی روایتی دستکاریوں کے لئے اِدارہ جاتی اور مارکیٹ کے نظام کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج یونین ٹیریٹری میں اس رفتار کو مزید مستحکم کرنے کے لئے جاری اقدامات کا جائزہ لیا۔جائزہ میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری، صنعت وحرفت،ڈائریکٹر صنعت جموں، ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کشمیر/جموں، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم کارپوریشن (جے کے ایچ ایچ ایم سی ) اور نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی) سری نگر، کرافٹ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ (سی ڈِی آئی) اور اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف کارپٹ ٹیکنالوجی (آئی آئی سی ٹی) سری نگر کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے لیبارٹریوں کی اَپ گریڈیشن، کرافٹ ولیجز اور کامن فیسلٹی سینٹرز (سی ایف سی) کے قیام، اون کی پروسسنگ اور ٹیسٹنگ سہولیات کو مضبوط بنانے، معیار کی یقین دہانی اورجی آئی ٹیگنگ کے فروغ، مارکیٹ روابط میں بہتری اور کاریگروں و بُنکروں کے لئے اِدارہ جاتی قرضوں تک رسائی سمیت مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے دونوں صوبوںجموں اور کشمیرمیں جاری تمام منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان سرمایہ کاریوں کے فوائد بلا تاخیر زمینی سطح پر کاریگروں اور وسیع تر دستکاری کے نظام تک پہنچنے چاہئیں۔چیف سیکرٹری نے کوالٹی ٹیسٹنگ اور سرٹیفیکیشن کے نظام کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا جس میں لیبارٹریوں کی اَپ گریڈیشن، کرافٹ وِلیج کی ترقی، رنگائی اور دیگر خصوصی سرگرمیوں کے لئے سی ایف سی، اون کی پروسسنگ کی سہولیات، ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر اور تیار شدہ مصنوعات کی جی آئی ٹیگنگ شامل ہیں۔اُنہوںنے این آئی ایف ٹی سری نگر میں پیشہ ورانہ اور ہنرمندی پر مبنی کورسزبشمول ڈپلوما اور سر ٹیفکیٹ پروگراموں شروع کرنے پر زور دیا تاکہ مقامی نوجوانوں کو اس قومی سطح کے اِدارے تک زیادہ رسائی حاصل ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے کورسز روایتی اور معدوم ہوتی دستکاریوں کے تحفظ اور احیأ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیںکیو ں کہ ان کے ذریعے ہنرمند کاریگروں کی نئی نسل تیار ہوگی۔چیف سیکرٹری نے ٹیگ شدہ مصنوعات کے حوالے سے مارکیٹ میں پہنچنے والی مصنوعات کی اصلیت یقینی بنانے کے لئے مؤثر ٹریس ایبلٹی اور ٹریکنگ نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ اَب تک تیار اور لیبل کی جانے والی جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات کی تعداد کا واضح ریکارڈ مرتب اور برقرار رکھا جائے۔اُنہوںنے مزید ہدایت دی کہ انفرادی دستکاری مصنوعات کی تیاری میں صرف ہونے والے کام کے اوقات اور محنت کا تعین کرنے کے لئے انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی ) پر مبنی ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کے اعداد و شمار سے یہ یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ کاریگروں کو ان کے صرف کردہ وقت اور مہارت کے مطابق مناسب معاوضہ ملے جس سے ان کی آمدنی کے امکانات کا تحفظ ہوگا اور روایتی دستکاریوں کو نوجوان نسل کے لئے معاشی طور پر قابلِ عمل بنایا جا سکے گا۔اِس سے قبل کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکرم جیت سنگھ نے بتایا کہ اس شعبے نے برآمدات کے حوالے سے مضبوط پیش رفت برقرار رکھی ہے۔ مالی برس 2025-26 کے دوران دستکاری کی برآمدات 817.39 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیںجبکہ جاری مالی برس کی پہلی سہ ماہی میں ہی 73.85 کروڑ روپے کی برآمدات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ شعبے کے ادارہ جاتی دائرہ کار میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر بھر میں 4,61,381 کاریگر اور بُنکرجسٹرڈ ہیں جبکہ رواں برس مزید 13,264 کاریگروں کا اِندراج کیا گیا ہے جن میں 7,919 کشمیر اور 5,345 جموں سے ہیں۔ڈائریکٹر ہیندی کرافٹس و ہینڈ لوم کشمیر مسرت الاسلام نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ کاریگروں اور بُنکروں کے لئے کریڈٹ کارڈ سکیم کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ اِس سکیم کے تحت مستحقین کو 2 لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جا سکتا ہے جس پر پانچ سال کے لئے 7 فیصد شرحِ سود میں رعایت حاصل ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ رواں مالی برس کے دوران اَب تک 2,750 کیسز سپانسر کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں یونین ٹیریٹری کے کاریگروں کو اب تک 868.60 لاکھ روپے کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔ بتایا گیا کہ محکمہ نے کریڈٹ کوریج کے لئے کشمیر میں 1,63,875 اور جموں میں 34,520 کاریگروں کا تجزیہ کیا ہے۔ تقریباً 56 فیصد کاریگروں کو کریڈٹ سکیموں کے تحت شامل کیا جا چکا ہے جبکہ باقی 44 فیصد کو مالی سہولیات تک ترجیحی رسائی کے لئے شناخت کیا گیا ہے۔جے اینڈ کے بینک اے پی آئی انضمام اور آدھار سیڈنگ کے ذریعے ڈیٹا سنکرونائزیشن اور خودکار سود سبسڈی کے عمل کو بھی تقویت دی جا رہی ہے جس سے مالی فوائد کی زیادہ مؤثر ترسیل میں سہولیت ہو گی۔میٹنگ میں محکمہ کے کیپٹل ایکس پنڈیچر پروگرام کے تحت پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ سونپاہ کرافٹ ولیج بڈگام کے لئے زمین کی منتقلی کا باضابطہ حکم صنعت و حرمت محکمہ کے حق میں جاری کیا گیا ہے۔ 10 کروڑ روپے کی مجموعی منصوبہ جاتی لاگت کے مقابلے میں پہلے مرحلے کی 4.50 کروڑ روپے کی رقم پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔پشمینہ ٹیسٹنگ اینڈ کوالٹی سرٹیفیکیشن سینٹر (پی ٹی کیو سی سی ) کو کافی حد تک اَپ گریڈ کیا گیا ہے۔اس میں پانچ جدید آلات کے زُمرے شامل کی گئی ہیںجن میں پروجیکشن مائیکروسکوپ،او ایف ڈِی اے۔4000، دو ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل مائیکروسکوپس اور سکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپ شامل ہیں۔ بہتربنیادی ڈھانچے کے نتیجے میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت تقریباً تین گنا بڑھ گئی ہے، ٹیسٹنگ کی انتظار فہرست میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے اور انتظار کا دورانیہ کم ہو کر 30 ۔ 45 دن رہ گیا ہے جبکہ روزانہ ٹیسٹوں کی تعداد 120 ۔ 140 تک پہنچ گئی ہے۔اِسی طرح صوبہ جموں میں ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس و ہینڈلوم جموں محمد نذیر شیخ نے بتایا کہ بانس سے تیار مصنوعات میں تنوع اور اگربتی سازی کے لئے تین کامن فیسلٹی سینٹرز سلان، سمب اور بلیوار میں مکمل کئے گئے ہیں، جن کی منصوبہ جاتی لاگت بالترتیب 2.87 کروڑروپے، 3.42 کروڑروپے اور 3.39 کروڑ روپے ہے۔مزید برآں، 1,871 کاریگروں اوربُنکروں کو اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس( او این ڈِی سی) پر شامل کیا جا چکا ہے جس سے انہیں وسیع تر مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے اور درمیانی چینلز پر انحصار کم کرنے کا ایک اضافی راستہ فراہم کیا گیا ہے۔میٹنگ میں مقامی ہینڈی کرافٹس، ہینڈلوم اور دیگر مصنوعات کو نمایاں مارکیٹ پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لئے مجوزہ اہم شاپنگ مقامات کی ترقی کے ٹائم لائنز کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی ڈھانچے، کوالٹی سرٹیفیکیشن، جی آئی تحفظ، سستے قرضوں، سکل ڈیولپمنٹ کو فروغ اور ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی پر مشترکہ توجہ کا نتیجہ کاریگروں کے لئے زیادہ اوردیرپا آمدنی کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے بھرپور روایتی دستکاری ورثے کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے اور اس کی مصنوعات کو قومی و بین الاقوامی مارکیٹوںمیں مزید مضبوط مقام دلایا جائے۔










