لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں ملک کے تقسیم کی ہولناک یادگار دِن کی تقریب سے خطاب کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں ملک کے تقسیم کی ہولناک یادگار دِن کی تقریب سے خطاب کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے تقسیم کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا ، اُن کی قربانیوں کو یاد کیا او رسب سے اتحاد ، اَمن او رقومی یکجہتی کو فروغ دینے کی اپیل کی

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ٹیگور ہال سری نگر میں ’ یوم یادِ ہولناکی تقسیم ‘کے موقعہ پر منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں اِجتماعی طور پر متاثرین کو یاد کیا گیا اور قومی اتحاد کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے اَپنے خطاب میں ان تمام شہریوں کو دلی خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے 1947 کی تقسیم کے دوران ناقابلِ بیان مصائب برداشت کئے اور جن کی قربانیاں آج بھی نسلوں کو تحریک دیتی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تقسیم کا زخم آج بھی ہر ہندوستانی کے اجتماعی شعور میں ایک درد کی صورت میں موجود ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’تقسیم کے کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ان کی قربانیاں ہمیں یاد دِلاتی ہیں کہ یہ زخم اب تک نہیں بھراا ور ہندوستان کی اِجتماعی روح میں ایک نسل در نسل منتقل ہونے والے درد کی صورت میں باقی ہے ۔ہم تقسیم کی ہولناک یاد کے دن صرف ماضی کو یاد نہیں کر رہے بلکہ ان لاکھوں لوگوں کی آواز کو بھی زبان دے رہے ہیں جن کی آواز ان سے چھین لی گئی تھی۔ میں اِس بات کا اعادہ کرتاہوںکہ ہم ان کے درد کو تاریخ کی گرد میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’انہیں یاد رکھنا اِنسانیت کے تئیں ہمارا فرض ہے۔ ہم ان کی یادوں کو محفوظ رکھیں گے۔ مکمل سچائی، دیانت داری اور انتہائی حساسیت کے ساتھ انہیں یاد کرنا ہی سب سے مقدس خراجِ عقیدت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی داستانیں ہمارے قومی شعور کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہیں اور ان کی قربانی ہمیشہ بھارت ماتا کی روح میں زندہ رہے گی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس دن کو خود شناسی اور قومی عزم کے موقع کے طور پر منائیں۔ اُنہوں نے نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں اور خواتین سے اپیل کی کہ وہ ہمت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں اور وقت کی رفتار کو ترقی اور ہم آہنگی کی سمت موڑیں۔اُنہوںنے ان لوگوں کے عزم و حوصلے کو سراہا جنہوں نے ہمت کے ساتھ اَپنی زندگیاں دوبارہ بسائیں اور ملک کے سماجی تانے بانے کو تاریخی روایات اور اَقدار سے مالا مال کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آج کا موقع ماضی کے درد کو تسلیم کرنے اور اَمن، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے لئے اپنے عزم کو مضبوط کرنے کا موقعہ ہے۔ یہ دِن ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ صرف تاریخ کے اسباق ہی مستقبل کو محفوظ اور انسان دوست بنا سکتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ملک کے بٹوارے نے کنبوں کو جدا کیا اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر اور چھمب سے کمیونٹیوں کو بے دخل کیا۔ اُنہوں نے ان لوگوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جنہیں دفعہ 370 کے باعث یونین ٹیریٹری کے اندر کئی دہائیوں تک امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی تکالیف کا خاتمہ کیا اور انہیں ملک کے دیگر شہریوں کی طرح مساوی حقوق فراہم کئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے تقسیم کے چند ماہ بعد قبائلی حملے کے دوران قربانیاں دینے والے بے شمار کنبوںکو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوں نے کہا، ’’تقسیم کے چند ماہ کے اندر ہی ملک کے دشمنوں نے قبائلی حملہ آوروں کی آڑ میں دہشت گردانہ حملہ کیا۔ ہندوستانی فوج اور لوگوںنے بہادری سے مقابلہ کیا۔ بے شمار کنبوں کی جدوجہد اور قربانیاں جموں و کشمیر کی اِجتماعی یادداشت کا لازمی حصہ ہیں۔ آج میں ان تمام کنبوں کے صبر، محنت اور اٹوٹ حب الوطنی کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم محض تاریخ نہیں بلکہ لاکھوں کنبوں کی زندہ یاد ہے۔ اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھیں، دشمنی اور فرقہ وارانہ تلخی کو مسترد کریں اور اعتماد کے پُل استوار کریں۔ انہوں نے نوجوانوں سے ایک ایسے ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی اپیل کی جو سب کو ساتھ لے کر چلنے والا اور بااِختیار ہو۔اُنہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو یقینی یہ بنانا چاہیے کہ ماضی کی غلطیاں مستقبل میں کبھی نہ دہرائی جائیں۔ جہاں کبھی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں وہاں آپ کو اعتماد کے پُل تعمیر کرنا ہوں گے اور ایک ایسے ’وِکست بھارت‘ کی تعمیر کرنی ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے اِجتماع کو یاد دِلایا کہ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں مضمر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک، گجرات سے گوا تک اور آسام سے اروناچل پردیش تک ہندوستان زبانوں، ثقافتوں، روایات اور عقائد کا حسین سنگم ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’تقسیم کے ذریعے ملک کے دشمنوں نے اتحاد میں تنوع کی اس روح کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہندوستان فخر اور اعتماد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہاہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ آنے والی نسلوں کو تقسیم کے درد سے آگاہ کریں گے، امن اور ہم آہنگی کو مضبوط کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایسی سانحہ خیز صورتحال دوبارہ کبھی نہ دہرائی جائے۔ خود کفیل جموں و کشمیر کی تعمیر ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے اور قومی اتحاد ہماری طاقت، سلامتی اور اِجتماعی ترقی کی بنیاد ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے تقسیم کی ہولناکی یادگاری دِن کے موقعہ پر لگائی گئی تصویری نمائش کا بھی دورہ کیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے دوران اپنی جانیں گنوانے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اِختیار کی گئی۔تقریب میں فنکاروں کی طرف سے ایک متحرک تھیٹر پرفارمنس بھی پیش کی گئی جس میں تقسیم کے دوران لاکھوں لوگوں کو درپیش صدمے، مشکلات اور نقل مکانی کی عکاسی کی گئی۔تقریب میں چیئرپرسن جموں و کشمیر وقف بورڈ ڈاکٹر سیّد درخشاں اندرابی،چیف سیکرٹری اتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ جل شکتی شالین کابرا، پرنسپل سیکرٹری کلچربرج موہن شرما، بی جے پی جموں و کشمیر کے جنرل سیکرٹری (آرگنائزیشن) اشوک کول، اعلیٰ حکام ، مختلف شعبہ ہائے زِندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے۔