ضلعی اِنتظامیہ کو عقیدت مندوں کیلئے جامع سہولیات اور 20 روزہ عرس کے پُر امن اِنعقاد کیلئے مربوط اِنتظامات یقینی بنانے کی ہدایت
سری نگر//سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے حضرت سلطان علی عالی بلخی ؒکے عرسِ مبارک کے موقعہ پر لوگوں کو دِلی مبارک باد پیش کی ہے ۔عرس کا آغاز 15 اگست سے ہوگاجو اسلامی کیلنڈر ربیع الاوّل کا پہلا دن بھی ہے۔سپیکر نے اپنے پیغام میں عرس کی گہری روحانی اور مذہبی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ اجتماع جموں و کشمیر اور اس سے باہر موجود عقیدت مندوں کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 20 روزہ عرس کے دوران پکھر پورہ میں حضرت سلطان علی بلخی ؒکی زیارت گاہ پر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔اُنہوں اس بات پر زور دیا کہ اسلامی کیلنڈر کی 11ویں اور 13ویں تاریخ کو بڑے مذہبی اِجتماعات متوقع ہیں جبکہ پوشاک بندی 25 ؍اگست اور شب خوانی 27 ؍اگست کو ہوگی۔سپیکر موصوف نے عقیدت مندوں کی متوقع بھاری تعداد کے پیش نظر پیشگی منصوبہ بندی اور مربوط اِنتظامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عقیدت مند مذہبی اِجتماعات میں پُرامن، محفوظ اور سہولیت کے ساتھ شرکت کر سکیں۔اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ تمام ضروری انتظامات پیشگی طور پر مکمل کئے جائیں جن میں بالخصوص پینے کے پانی کی فراہمی، بلا تعطل بجلی، صفائی ستھرائی، طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی اور زیارت گاہ کے اطراف دیگر بنیادی شہری سہولیات پر خصوصی توجہ دی جائے۔عبدالرحیم راتھر نے پینے کے پانی کے مناسب پوائنٹس قائم کرنے اور کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے متبادل اِنتظامات رکھنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ زیارت گاہ اور دیگر اہم مقامات پر بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ متعلقہ اداروں کو مناسب صفائی کی سہولیات، کافی تعداد میں صفائی عملے کی تعیناتی اور عرس کے دوران باقاعدگی سے کوڑاکرکٹ اُٹھانے کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔سپیکر موصوف نے صحت کی سہولیات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ اہم مقامات پر بالخصوص بڑے اجتماعات کے دوران، طبی ٹیمیں، ضروری ادویات، ایمبولینسز اور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات دستیاب رکھی جائیں۔ اُنہوں نے کسی بھی میڈیکل ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مناسب تیاریوں پر زور دیا اور ہدایت دی کہ ایمرجنسی رسپانس میکانزم پورے ایونٹ میں فعال رہیں۔اُنہوں نے عقیدت مندوں اور گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لئے جامع ٹریفک اور ٹرانسپورٹ مینجمنٹ پلان پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے مناسب پارکنگ مقامات کی نشاندہی، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، راستوں کا مناسب انتظام اور کافی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹریفک جام اور عقیدت مندوں کو کسی قسم کی دشواری سے بچایا جا سکے۔سپیکرنے متعلقہ محکموں کو بڑے اجتماعات سے قبل وسیع پیمانے پر صفائی اور حفظانِ صحت کی مہم چلانے اور عرس کے پورے دورانیے میں صفائی کا معیار برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے کہا کہ رابطہ سڑکوں، عوامی مقامات، پارکنگ ائیریاز، صفائی وستھرائی کے مقامات اور دیگر ایسے مقامات پر خصوصی توجہ دی جائے جہاں عوام کی زیادہ آمدورفت متوقع ہو۔ اُنہوں نے پکھرپورہ کی گلیوں اور اندرونی راستوں میں مناسب سٹریٹ لائٹنگ اور عرس شریف سے قبل زیارت گاہ کے احاطے میں مناسب روشنی پر بھی زور دیا۔اُنہوںنے عرس کے دوران چاول، آٹا، چینی، رسوئی گیس اورتیل خاکی سمیت ضروری اشیائے خوردونوش کی وافر دستیابی اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے عقیدت مندوں کی متوقع بھاری بھیڑ کے پیش نظر مقامی صارفین کے لئے اضافی راشن کوٹا فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ مقامی آبادی کی معمول کی ضروریات متاثر نہ ہوں۔عبدالرحیم راتھر نے تمام متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں اور مؤثر بین ڈیپارٹمنٹل ہم آہنگی کو برقرار رکھیں تاکہ انتظامات کے ہر پہلو کا مناسب احاطہ کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ بڑے اجتماعات شروع ہونے سے قبل تمام بنیادی سہولیات مکمل طور پر فعال ہونی چاہئیں اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی اِنتظامات بھی تیار رکھے جائیں۔اُنہوںنے عقیدت مندوں اور لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ امن، صفائی اور نظم و ضبط برقرار رکھیں اور عرس کے پُرامن اِنعقاد کے لئے اِنتظامیہ اور رضاکاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔سپیکر موصوف نے اُمید ظاہر کی کہ یہ مقدس موقعہ پُرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگا اور لوگوںکے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بھائی چارے اوروحانی عقیدت کے جذبے کو تقویت ملے گی۔










