رُکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے اور مقررہ مدت میں منصوبوں کی تکمیل کی ہدایت
سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر ِانفراسٹرکچر اینڈ کنکٹویٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری کاموں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں یونین ٹیریٹری کے مختلف علاقوں میں بی آر او،این ایچ اے آئی ،این ایچ آئی ڈِی سی ایل اور محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کے ذریعے تعمیر کی جانے والی قومی شاہراہوں، ٹنلوں، فلائی اوورز، وایاڈکٹس، پُلوں، رِنگ روڈز اور دیگر اہم رابطہ سڑکوں کے بڑے منصوبے شامل ہیں۔جائزے کے دوران ان منصوبوں کی بھی تفصیلی صورتحال پیش کی گئی جو تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈِی پی آر) اور اصولی منظوری کے مراحل میں ہیں اورمرکزی حکومت کے مختلف پروگراموں کے تحت متعلقہ عمل آوری ایجنسیوں کے آنے والے کام کے منصوبوں میں منظوری اور شمولیت کے لئے تیار کئے جارہے ہیں۔ میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری، محکمہ تعمیراتِ عامہ،کمشنر سیکرٹری فارسٹ،صوبائی کمشنروں ،ضلع ترقیاتی کمشنروں ،چیف اِنجینئر پروجیکٹ بیکن/سمپارک،محکمہ تعمیراتِ عامہ کے چیف انجینئران، این ایچ اے آئی اوراین ایچ آئی ڈِی سی ایل کے ریجنل اَفسران اور متعلقہ محکموں و عمل آوری ایجنسیوں کے سینئر اَفسران اور نمائندگان نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے مختلف شاہراہوں اورٹنلوں کے منصوبوں کی تفصیلی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی فزیکل پروگریس اور تکمیل کی ممکنہ تاریخوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر کے لئے ان بڑے رابطہ منصوبوں کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے صوبائی اور ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ عمل آوری ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھیں تاکہ کام میں حائل رُکاوٹوں کو فوری طور پر دُور کیا جا سکے اور منصوبوں پر کام کی رفتار تسلی بخش کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ منصوبوں کی تکمیل پر اثر انداز ہونے والے فیلڈ لیول کے مسائل کی بروقت نشاندہی کرکے انہیں پیشگی طور پر حل کیا جائے تاکہ منظور شدہ ٹائم لائنز کی پابندی یقینی بنائی جا سکے اور ان بڑے منصوبوں سے ثمرات جلد از جلد لوگوں تک پہنچ سکیں۔چیف سیکرٹری نے زیر تعمیر ہائی ویز پر موجودہ سڑکوں کی سطح کو برقرار رکھنے پر بھی خصوصی زور دیا۔ اُنہوں نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ جن سڑکوں کے حصے اس وقت مسافروں کے زیرِ استعمال ہیں، انہیں قابلِ آمدورفت اور محفوظ رکھا جائے۔ اُنہوں نے سڑک کی تباہ شدہ سطحوں اور ٹریفک میں خلل ڈالنے اور عوام کو تکلیف کا باعث بننے والی دیگر خامیوں پر فوری توجہ دینے پر زور دِیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کنکٹویٹی میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری لوگوں اور سامان کی آواجاہی کو زیادہ تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنائے گی۔ سیاحت اور معاشی اعتبار سے اہم علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی جس سے ان علاقوں کی دیرپا ترقی اور مقامی لوگوں کی معاشی خوشحالی میں بھی اِضافہ ہوگا۔میٹنگ کے شروعات میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ تعمیراتِ عامہ انیل کمار سنگھ نے بی آر او ، این ایچ اے آئی ، این ایچ آئی ڈِی سی ایل اور محکمہ تعمیراتِ عامہ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جاری بڑے رابطہ منصوبوں کا مجموعی جائزہ پیش کیا۔اُنہوں نے بتایا کہ اس وقت جاری منصوبوں کے علاوہ متعلقہ ایجنسیوں نے متعدد اضافی سڑکوں، ٹنلوں اور فلائی اوورز کی بھی نشاندہی کی ہے جو مختلف علاقوں کے درمیان بالخصوص یونین ٹیریٹری کے مشکل جغرافیائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کو آسان بنانے اور رابطہ نظام کو مزید قابلِ اعتماد بنانے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔
چیف سیکرٹری نے این ایچ آئی ڈِی سی ایل کے بڑے منصوبوں جن میں زوجیلا ٹنل، کھیلا نی ٹنل، کھیلا نی۔کھنہ بل پیکیجز اور جموں۔اکھنور پیکیجز شامل ہیں، کا بھی جائزہ لیا۔ جائزہ لئے گئے کاموں نے مثبت فزیکل پیش رفت کو برقرار رکھا ہے جس سے اوسطاً سہ ماہی طبعی ترقی میں 2.18 فیصد اِضافہ ہوا ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ (آر اینڈ بی) کے بڑے شہری رابطہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیاجن میں پارم پورہ ۔ شالہ ٹینگ فلائی اوور ، مومن آباد اور نوگام میں وہیکل انڈر پاسز، اور پرانے بادشاہی باغ اور لسجن پُلوں کی بحالی شامل ہیں۔میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ این ایچ ۔144 پر پیر پنجال کے 55.05 کلومیٹر طویل حصے میں سڑک کی حفاظت سے متعلق کام مکمل کئے گئے ہیں۔ ان کاموں میں 100 فیصد فزیکل پیش رفت حاصل کی گئی ہے جبکہ منصوبے کی منظور شدہ لاگت 18 کروڑ روپے ہے۔چیف سیکرٹری نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ ڈِی پی آر کی تیاری، تکنیکی جانچ، اراضی سے متعلق ضروریات اور قانونی و ضابطہ جاتی منظوریوں کا عمل مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے تاکہ اہل منصوبوں کو جلد منظوری حاصل ہو اور انہیں مرکزی حکومت کے مختلف پروگراموں کے تحت آئندہ ورک پلان میں شامل کیا جا سکے۔اُنہوں نے یونین ٹیریٹری اِنتظامیہ، ضلعی حکام اور عمل آوری ایجنسیوں کے درمیان مسلسل اور مؤثر رابطہ برقرار رکھنے پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر میں جاری رابطہ نظام کی تبدیلی کو مؤثر انداز میں مکمل کیا جا سکے، منصوبے بروقت پایۂ تکمیل تک پہنچیں، سڑکوں کی حالت بہتر ہو، آمدورفت مزید محفوظ بنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔










