وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموںوکشمیر کی معیشت کو کاربن سے پاک بنانے کیلئے مقامی طور پر قابل عمل بائیو ماس حل تیار کرنے پر زو ردیا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموںوکشمیر کی معیشت کو کاربن سے پاک بنانے کیلئے مقامی طور پر قابل عمل بائیو ماس حل تیار کرنے پر زو ردیا

کیمیکل اِنجینئرز 41ویں قومی کانووکیشن اور ’بائیو ماس ـ: معیشت کو کاربن سے پاک بنانے کیلئے ایک دیرپا وسائل‘ کے موضوع پر قومی سمینارکے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کیا

سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے انجینئروں، سائنسدانوں اور تعلیمی اِداروں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں موجود بائیوماس کے وافر وسائل کو بروئے کار لائیں تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو بتدریج کاربن سے پاک کرنے کے لئے مقامی ضروریات کے مطابق معاشی طور پر قابلِ عمل اور ماحولیاتی اعتبار سے دیرپا حل تیار کریں ۔ اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار کیمیکل انجینئرز کی 41ویں قومی کانووکیشن اور’بائیو ماس : معیشت کو کاربن سے پاک کرنے کے لئے ایک دیرپا وسائل‘‘کے موضوع پر قومی سمینار کے اِفتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ کانفرنس اور سمینار دی اِنسٹی چیوٹ آف انجینئرز (اِنڈیا) (آئی ا،ی آئی )کے کیمیکل اِنجینئرنگ ڈویژن بورڈ کے زیر اہتمام محکمہ کیمیکل انجینئرنگ، این آئی ٹی سری نگر کے اِشتراک سے یہاںآئی اِی آئی جے اینڈ کے سٹیٹ سینٹر میں منعقد ہو رہا ہے۔اس دو روزہ قومی کانووکیشن اور سمینار میں نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری، وائس چانلسر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان،ڈائریکٹر این آئی ٹی سری نگر انوراگ مشرا، چیئر مین آئی اِی آئی جے اینڈ کے سٹیٹ سینٹر فردوس احد بٹ، چیئرمیںکیمیکل اِنجینئرنگ ڈویژن بورڈ ایف آئی اِی پروفیسر جی مدھوکے علاوہ اِنجینئرز، ماہرین تعلیم اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے کئی دہائیوں کے وقفے کے بعد جموں و کشمیر میں اس کانووکیشن کے اِنعقاد کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آئی اِی آئی کی جموں و کشمیر میں آخری قومی کانفرنس 1989 کے اوائل میں منعقد ہوئی تھی۔اُنہوں نے کہا، ’’ہمارے لئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ 41ویں قومی کانووکیشن میں آپ سب یہاں موجود ہیں جس کا انعقاد ہمارے اپنے این آئی ٹی سری نگر اور کیمیکل اِنجینئرنگ ڈویژن بورڈ نے کیا ہے۔‘‘ اُنہوں نے کانووکیشن کے مرکزی موضوع کے طور پر بائیوماس اور کاربن میں کمی کو منتخب کرنے پر منتظمین کی سراہنا کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاربن پر مبنی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی ضرورت توانائی کے تحفظ اور فوسل فیول کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اثرات دونوں کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حالیہ دِنوںمیں ایندھن کی فراہمی پر پڑنے والے دباؤ نے کاربن پر مبنی توانائی کے ذرائع پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے منسلک خطرات کو واضح کیا ہے جبکہ غیر چیک شدہ فوسل فیول کے اِستعمال کے نتائج گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا سے متعلق آفات کی صورت میں تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہمالیائی خطے کی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خاص حساسیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’ہم میں سے جو لوگ تقریباً میری عمر کے ہیں یا شاید مجھ سے کچھ بڑے ہیں، اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہمارے گلیشیئر کس طرح پیچھے ہٹ رہے ہیں اور سکڑ رہے ہیں۔‘‘اُنہوںنے سونہ مرگ کے قریب تھاجیواس گلیشیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گلیشیئر کے سکڑنے کی شدت کو ذاتی تجربے کی بنیاد پر بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہمیں صرف سری نگر سے دو گھنٹے کا سفر کرکے سونہ مرگ جانا ہے تاکہ وہاں تھاجیواس گلیشیئر کو دیکھا جا سکے۔‘‘ اُنہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت میں مختصر پیدل سفر کے بعد گلیشیئر کے دامن تک پہنچنا ممکن تھاجبکہ آج اس کے لیے کافی طویل سفر کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایسی تبدیلیاں فوسل ایندھن کے مسلسل اور بے روک ٹوک استعمال کے ماحولیاتی نتائج کی ایک واضح یاد دہانی ہیں۔تاہم ، اُنہوںنے خبردار کیا کہ کاربن پر مبنی معیشت سے دوری صرف اس طرح ممکن نہیں کہ راتوں رات توانائی کے ایک ذریعے کو دوسرے ذریعے سے تبدیل کر دیا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’اس وقت معاشی طور پر قابلِ عمل، دیرپا اور ماحول دوست حل وقت کی اہم ضرورت ہیں۔‘‘ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ متبادل توانائی کے حل ایسے ہونے چاہئیں جو توانائی کے موجودہ ذرائع کے ساتھ معاشی اعتبار سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اُنہوں نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر میں زراعت، باغبانی، جنگلات، میونسپل ویسٹ اور بڑھتی ہوئی کھپت کے ذریعے پیدا ہونے والے اہم حیاتیاتی وسائل موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہم بائیوماس کی دولت پر بیٹھے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اصل چیلنج اس وسیلے کو مفید توانائی میں تبدیل کرنے کے لئے مؤثر طریقۂ کار تیار کرنا ہے۔ اُنہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر اَب تک فضلے سے توانائی پیدا کرنے کا ایک قابلِ عمل اور دیرپا ماڈل تیار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتا رہا ہے حالاں کہ یہاں اتنا فضلہ پیدا ہوتا ہے جو ایسے منصوبوں کی حمایت کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ فضلے سے توانائی کے منصوبوں کی معاشی افادیت بالخصوص شمسی توانائی اور پن بجلی جیسے نسبتاً سستے ذرائع کے مقابلے میں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔تاہم، اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ ویسٹ مینجمنٹ اور توانائی کی پالیسی کے مستقبل کا تعین صرف معاشی عوامل کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔اُنہوں نے کہا، ’’ہمیں یہ کرنا ہی ہو گا۔‘‘ انہوں نے اس ضرورت کو اُجاگر کیا کہ نہ صرف پہلے سے موجودفضلے کے مسئلے بلکہ نامیاتی فضلے کی مسلسل بڑھتی ہوئی پیداوار کو بھی حل کیا جائے جسے ممکنہ طور پر توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے اپنے سابقہ دورِ حکومت کے دوران جھیل ڈل سے کاٹی گئی نباتاتی مواد کو بائیوفیول میں تبدیل کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی اَپنی کوششوں کو بھی یاد کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اعلیٰ تعلیمی اِداروں بالخصوص زرعی یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کیا گیا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ تصور اَب تک زیادہ تر گفت و شنید تک محدود رہا ہے، تاہم ایسی کوششوں کو زیادہ عزم کے ساتھ عملی تجربات کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔عمر عبداللہ نے ہماچل پردیش کے ایک بورڈنگ سکول میں اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بظاہر غیر روایتی خیالات بھی وقت کے ساتھ کامیاب اورعملی حل بن سکتے ہیں۔اُنہوں نے یاد کیا کہ ان کے ایک اُستاد نے انڈوں کی گھریلو فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سکول میں پولٹری فارم قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔اس اُستاد نے اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پولٹری کے فضلے کو بائیو گیس میں تبدیل کرنے کے امکان پر بھی کام کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا، ’’جو چیز ابتدا میں دوسروں کو ایک خواب یا حتیٰ کہ مذاق لگ سکتی ہے، اگر آپ طویل عرصے تک اس پر کام جاری رکھیں تو لوگ سمجھ جائیں گے کہ تمسخر غلط تھا اور ویژن دراصل درست تھا۔‘‘اُنہوں نے بتایا کہ بالآخر سکول نے ایک قابلِ عمل نظام تیار کیا جس میں پولٹری کے فضلے کو بائیو گیس میں تبدیل کیا گیا۔ اس بائیو گیس کو تقریباً ایک کلومیٹر دور واقع مرکزی ڈائننگ ہال تک پہنچایا گیاجہاں اسے کھانا پکانے کے لئے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لئے اِستعمال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے سائنسدانوں، اِنجینئروں اور تعلیمی اِداروں پر زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجیوں اور حل تیار کرتے وقت ناکام تجربات سے مایوس نہ ہوں۔اُنہوں نے کہا، ’’آئیے ناکامی سے نہ گھبرائیں‘‘ اورکہاکہ تجربات اور ناکام کوششوں سے سیکھنا تکنیکی ترقی کے لئے ضروری ہے۔اُنہوں نے تھامس ایڈیسن کی مثال اور الیکٹرک لائٹ بلب کی تیاری کے دوران تجربات کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ عصری تکنیکی منصوبوں کا حوالہ دیا جہاں ناکام تجربات بعد میں ہونے والی اِختراعات کے لئے قیمتی ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کانووکیشن میں شرکت کرنے والے اِنجینئروں، سائنسدانوں اور اِداروں کی اِجتماعی علمی صلاحیت کو جموں و کشمیر کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے والے عملی منصوبوں کی تیاری کے لئے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہمیں اس کمرے میں موجود یا یہاں موجود اداروں کی نمائندگی کرنے والی غیر معمولی ذہنی صلاحیت کو ایسے قابلِ عمل، دیرپا اور معاشی طور پر قابلِ عمل منصوبے تیار کرنے کے لئے وقف کرنا ہوگا۔‘‘
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ بائیوماس کے اِستعمال کے حل کو ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں محض نقل نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ دستیاب وسائل، جغرافیہ، آب و ہوا اور مقامی حالات میں فرق موجود ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کا بائیوماس مہاراشٹر کے بائیوماس جیسا نہیں ہوگا اور نہ ہی تامل ناڈو کے بائیوماس جیسا ہوگا۔‘‘ اُنہوں نے مقامی اور مقامی حل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ نے تجویز دی کہ کانووکیشن کے مباحث کو ایسی ٹھوس سفارشات پر منتج ہونا چاہیے جن کا جموں و کشمیر حکومت جائزہ لے سکے اور بعد میں انہیں ملک کے دیگر حصوں کی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے ساتھ بھی اِشتراک کیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ مقصد ایسی ٹیکنالوجیز اور ماڈلز کی نشاندہی کرنا ہے جو بیک وقت ویسٹ مینجمنٹ، توانائی کی پیداوار، ماحولیاتی دیرپائی اور معاشی افادیت کے مسائل حل کر سکیں۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، ’’آئیے مقامی،دیرپا اور اقتصادی حل تلاش کریں۔‘‘ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کو باہر سے وسائل منگوانے کے بجائے مقامی طور پر دستیاب بائیوماس کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اُنہوںنے کہا کہ ایسی کوششوں کا حتمی مقصد معیشت کو بتدریج کاربن کی ضرورت سے زیادہ انحصار سے دور کرنا اور آنے والی نسلوں کے لئے ماحولیات کی حفاظت کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اُمید ظاہر کی کہ دو روزہ قومی کانووکیشن قابلِ عمل سفارشات اور ایسے عملی خیالات پیش کرے گی جو سائنسی تحقیق کو زمینی سطح کے حل میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔اُنہوں نے کہا، ’’اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میرا یقین ہے کہ یہ قومی کانووکیشن اَپنے مقرر کردہ اہداف سے کہیں زیادہ حاصل کر لے گی۔‘‘وزیر اعلیٰ نے شرکاء اور منتظمین کے لیے ان کی بحث و مباحثہ میں کامیابی کی خواہش ظاہر کی اور دی انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز (انڈیا) اور جموں و کشمیر کی انجینئرنگ و تعلیمی برادری کے ساتھ مسلسل روابط جاری رہنے کی امید ظاہر کی۔وزیراعلیٰ نے شرکأ اور منتظمین کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ اِنسٹی چیویشن آف اِنجینئرز (اِنڈیا) اور جموں و کشمیر میں اِنجینئرنگ اور تعلیمی کمیونٹی کے ساتھ مسلسل روابط رہنے کی اُمید ظاہر کی۔