ڈیزل اور پیٹرول سے مہنگا ہونے کے باوجود بھی تیل دستیاب نہیں
سرینگر///وادی میں مٹی کے تیل کی نایابی کے سبب لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامناکرناپڑرہا ہے جبکہ سردیوں میں مٹی کے تیل کی اشد ضرورت ہوتی ہے انتظامیہ کی جانب سے اگرچہ موسم سرماء سے قبل ہی مکمل تیاری کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں تاہم زمینی سطح پر حالات اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔ادھر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وادی کیلئے سپلائی ہونے والا مٹی کا تیل ڈیلروں کی جانب سے بلیک میں 120روپے فروخت کیاجارہا ہے ۔جبکہ عام لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ مٹی کا تیل کی سپلائی نہیںہورہی ہے ۔ اس سلسلے میں لوگوںنے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت سے زیادہ مٹی کی تیل کی قیمت ہونے کے باوجود بھی لوگوں کو یہ دستیاب نہیں ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی میں مٹی کا تیل ایک خواب بن کے رہ گیا ہے مٹی کے تیل کا استعمال عام اور غریب طبقہ سے وابستہ لوگ کرتے ہیں تاہم ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں انتظامیہ ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔ وادی کشمیر میں موسم سرماء شروع ہونے سے قبل ہی اگرچہ سرکار اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ وادی میں مٹی کے تیل، رسوئی گیس اور دیگر اشیاء ضروریہ کا وافر سٹاک دستیاب ہے لیکن زمینی سطح پر سرکاری دعوے میل نہیں کھاتے ۔ اگرچہ فی راشن کارڈ ایک لیٹر مٹی کا تیل دیا جاتا ہے تاہم اس کو بھی چھ 8مہینے بعد فراہم کیا جاتا ہے ۔ لوگوںنے اس ضمن میں کہا ہے کہ سردیوں میں مٹی کے تیل کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاہم سردیوں میں بھی صارفین کیلئے مٹی کا تیل دستیاب نہیں رکھا جاتاجس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوںنے کہا ہے کہ سرکار کی طرف سے نہ ایندھن کے بطور بالن فراہم کیا جاتا ہے اور ناہی مٹی کا تیل تو لوگ کس طرح اپنے کام نپٹائیں گے ۔ لوگوںنے کہا ہے کہ ایک طرف سخت سردی نے لوگوں کو شدید پریشان کردیا ۔ادھر سی این آئی نمائندے برائے جنوبی کشمیر امان ملک نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوبی کشمیرمیں کئی جگہوں پر مٹی کاتیل 110-120روپے بلیک میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ باہر سے یہاںآنے والے لوگ جویہاں پر ریڈوں پرمٹر وغیرہ فروخت کرتے ہیں کیلئے مٹی کا تیل دستیاب رہتا ہے البتہ یہاں کے لوگوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے۔










