سرینگر//غیر قانونی طور پر کالونی کاقیام عمل میں لانے کے معاملے کا خصوصی ٹریبونل نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے سرینگر میونسپل کارپوریشن اور ضلع انتظامیہ بڈگام کومعاملے کی تحقیقات کے احکامات صادر کردیئے ٹربونل کے احکامات ملنے کے بعد سرینگر میونسپل کارپوریشن نیند سے جاگ گئی اور آ ئیندہ اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں غور خوص کرنا شروع کر دیاہے ۔ادھرعوامی حلقوں کے مطابق سرکار کی اجا زت کے بغیرہر سال نئی نئی کالنیوں کاقیا م عمل میں لاکر پشتنی باشندو ںکومسائب مشکلات میں مبتلاکیاجاتاہے بے ضابطگیوں بدعنوانیوں کی اگرباریک بینی سے تحقیقا ت کی جائے گی توبہت سارے رازوں سے پردہ سرک جائیگا ۔اے پی آئی کے مطابق سرینگر اور وسطی ضلع بڈگام کے درمیاں رمبیر گڑھ علاقے میں ایک کالونی کاقیام عمل میں لایاگیاا س علاقے میں ایک شخص اپنے لئے رہائیشی مکام تعمیرکررہاتھاکہ سرینگر میونسپل کارپوریشن کی انہدامی ٹیم نے جائے موقع پرجاکربغیراجازت رہائشی مکان تعمیرکرنے والے کی عمارت کومندہم کرناشروع کر دیااگر چہ مزکورہ شخص نے انہدامی کارروائی کوروکنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ثابت ہوا ور اس دوران مزکورہ شخص نے انہدامی ٹیم کواس بات سے آگاہ کیاکہ جویہاں درجنوں رہائشی مکان شاپنگ کمپلکس اور دوسرے اغراض مقاصد کے لئے عمارتیں تعمیرکی گئے کیاانہیں ضلع ا نتظامیہ بڈگام یاسرینگر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اجازت مل گئی ہے اور اکیلامیں ہوں جوغیرقانونی طور پررہائشی مکان تعمیرکررہاہے۔ مزکورہ شخص کوسرینگر میونسپل کارپوریشن کی انہدامی ٹیم کی جانب سے کوئی معقول جواب نہیں ملاتو مزکورہ شخص نے خصوصی ٹربونل کے ساتھ رابطہ قائم کرکے رمبیرگڑھ میں کالونی کے قیام کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لئے عرضی دائر کی ۔متعلقہ ادارے نے اس سلسلے میں ضلع انتطامیہ بڈگام میونسپل کارپوریشن سرینگرسے رابطہ قائم کیااو رجانکاری فراہم کرنے کی ہدایت کی وہاں سے بھی کوئی جواب ضلع انتظامیہ او رانتطامیہ نے نہیں دیاجس سے خصوصی ٹربونل کواس بات کااحساس ہوا کہ رمبیرگڑھ کے علاقے میں بغیراجازت قوائدوضوابط کی خلاف ورزی عمل میں لاکرکالونی کاقیام عمل میں لایاگیا۔ متعلقہ ادارے نے پھر ضلع انتظامیہ بڈگام اور سرینگرمیونسپل کارپوریشن کوہدایت کی وہ دس دنوں کے اند راندر کالونی کے قیام کے سلسلے میں تفصیلا ت فراہم کرے کہ آیایہ قانونی طور پرجائز ہے یاناجائز ۔اب ضلع انتظامیہ بڈگام او رسرینگر میونسپل کارپوریشن اس شش پنج میں مبتلاہو گئے ہے کہ ٹربونل کوکیاجواب دینگے کالونی کاقیام غیرقانونی طور پرعمل میں لایاگیاہے کسی کوکوئی اجازت نہیں دے دی گئی ہے لینڈمعافیہ کی جانب سے اراضی خرید کر لوگوں کوفروخت کی جاتی ہے او رلوگ اپنے لئے اشیانے تعمیرکررہے ہے اور اس ضمن میں وہ کسی بھی ادارے کے ساتھ رابطہ نہیں کرتے ہے اور جب رہائشی مکان مکمل ہوجاتے ہے تو ا سے کالونی کانام دیاجاتاہے موٹی رقومات خرچ کرکے ا س سے رجسٹرکیاجاتاہے جسکی بناء پرجل شکتی ،پی ڈی ڈی ،آر اینڈ بی محکمے سڑکیں ،بجلی ،پانی فراہم کرنے کے اقدامات اٹھاتے ہے حالانکہ ان کالنیوں کے لئے نہ تو کوئی نقشہ بنایاجاتاہے بلدیاتی اداروں اربن لوکل بارڈئز ہاوسنگ ڈیپارٹمنٹ اربن ڈیپارٹمنٹ پولیس آر اینڈ بی پی ڈبلیوڈی پی ڈی ڈی جل شکتی محکموں کوکسی بھی طرح کی جانکاری فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔ادھرعوامی حلقوں کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران ہی نہیں بلکہ تین دہائیوں سے ایسی سینکڑوں کالنیاں وجودمیں لائی گئی ہے جن کے لئے پہلے سے متعلقہ اداروں کوآگاہ نہیں کیاگیا۔سرکار نے ان کالنیوں کی رجسٹریشن نہیں کی محکمہ مال جل شکتی ،پی ڈی ڈی، آر اینڈبی، پی ڈبلیوڈی، فائراینڈایمرجنسی ،ہیلتھ ،ایجوکیشن او ردوسرے اداروں کی جانب سے غیرتسلیم شدہ کالنیوں میں کس طرح سے ادارے جن میں اسکول اسپتال ،سڑکیں ،بجلی کاقیام عمل میں لایاگیاہے یہ حیرانگی سے کم نہیں ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق وادی کشمیرمیں لینڈمعافیہ سے تعلق رکھے والے اتنے بااثر ہے کہ ان کاہر ایک محکمے پراثر بھی ہے اور ان کے کنٹرول میں بھی ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق گزشتہ تیس برسوں سے جن کالنیوں کاقیام عمل میں لایاگیاہے ان میں سے کتنی کالنیوں کوسرکار نے پہلے اجازت دی ہے اور وہاں رہائشی مکان او رعمارتیں تعمیرکی اس کی آزانہ طور پرضرورت ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق وہ ا س بات کے خلاف نہیں کہ لوگ کھلی فضاؤں میں سانس نالے وہ اس بات کے خلاف ہے کہ سرکاری ادارے جوقا نون کے تحت کام کرنے کادعویٰ کرتے ہیں ہی غیرقانونی سرگرمیاں انجام دے رہے ہے اور ایسا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پرمالی بے ضابطگیاں بھی عمل میں لائی جاتی ہے ۔کالنیوں کورجسٹر کرانے کے لئے اور متعلقہ اداروں سے سہولیات حاصل کرنے کے لئے کون کون سے طریقے استعمال کئے جاتے ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔شہرسرینگر کے پشتنی باشندوں کے مطابق سنتری سے لے کرمنتری تک گاؤں دیہات قصبوں سے نکل کر ایسی ہی کالنیوں میں آباد ہوئے ہیں اور شہرسرینگر کے پشتنی باشندوں کے لئے رہائشی مکان تعمیرکرنا یاایک مرلہ اراضی خریدنا مشکل ہی نہیں ناممکن بن گیاہے ا ورہم مطالبہ کرتے ہے یہ جوغیرقانونی طور پر کالنیوں کاعمل میں لایاگیاہے زرہ اس کی بھی جانکاری عوام کے سامنے رکھی جائے ۔










