modi

جی -20 کی بھارت کی صدارت عالمی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک بڑا موقع

بھارت کے پاس ہر شعبے میں چیلنجوں کا حل موجودہے، خواہ یہ امن یا اتحاد یا اور کوئی مسئلہ ہو:وزیر اعظم

سرینگر//وزیراعظم نے کہا ہے کہ جی -20 کی بھارت کی صدارت عالمی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک بڑا موقع ہے۔ پی ایم مودی نے آکاشوانی پر من کی بات پروگرام میں کہا کہ وکرم ایس خلائی راکٹ سے ملک کی مینوفیکچرنگ کو بڑھاوا ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے پاس ہر شعبے میں چیلنجوں کا حل موجودہے، خواہ یہ امن یا اتحاد ہو، ماحولیات کے تئیں خیال رکھنے کی بات ہو یا پائیدار ترقی کا معاملہ ہو۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت نے ’’ایک کرہ ارض،ایک کنبے، ایک مستقبل‘‘ کا جو موضوع چنا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت کے لئے جی-20 کیصدارت کی ذمہ داری سنبھالنا عالمی سطح پر فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک بڑاموقع ہے۔ پی ایم مودی نے آکاشوانی پر من کی بات کے 95 ویں نشریے میں ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اور بھی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ بھارت کو امرت کال کے دوران یہ ذمہداری سونپی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے پاس ہر شعبے میں چیلنجوں کا حل موجودہے، خواہ یہ امن یا اتحاد ہو، ماحولیات کے تئیں خیال رکھنے کی بات ہو یا پائیدار ترقی کا معاملہ ہو۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت نے ’’ایک کرہ ارض،ایک کنبے، ایک مستقبل‘‘ کا جو موضوع چنا ہے، اس سے Vasudhaiva Kutumbakam کے تئیں ملک کے عہدکی عکاسی ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ G-20 کی ساجھیداری دنیا کی دو تہائیآبادی، تین چوتھائی عالمی تجارت اور 85 فیصد عالمی GDP پر مشتمل ہے۔ پی ایم مودی نے اس بات پر فخرکا اظہار کیا کہ بھارت پہلی دسمبر سے اتنے بڑے اور طاقتور گروپ کی صدارت سنبھالنے والاہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں G-20 سیوابستہ کئی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ انھوں نے یہ اعتماد ظاہر کیا کہ لوگ دنیا کیسامنے اپنی ثقافت کے گوناگوں اور منفرد رنگ پیش کریں گے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ G-20 سیوابستہ ان پروگراموں کے لئے آنے والے افراد آج کے مندوبین تو ہوسکتے ہیں، لیکن وہ مستقبلکے سیاح ہیں۔وزیراعظم نے تلنگانہ کے Rajanna Sircilla ضلعے کے ایک بنکر ہری پرساد Garu کیایک منفرد تحفے کا ذکر کیا، پی ایم مودی نے بتایا کہ ہری پرساد نے انھیں اپنے ہاتھ سیبْنا ہواG-20 کا لوگو بھیجا ہے۔ وزیراعظم نے اسکولوں، کالجوںاور یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ G-20سے متعلق بحث و مباحثے اور مقابلوں کیلئے مواقع پید اکریں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ پوریملک نے 18 نومبر کو خلاء￿ کے شعبے میں ایک تاریخ ساز کارنامے کا مشاہدہ کیا۔ اْس دن بھارتنے اپنے پرائیوٹ سیکٹر کے ڈیزائن اور تیارکردہ پہلے راکٹ کو خلاء￿ میں بھیجا، جس کا ناموکرم ایس ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جیسے ہی ملک کے اپنے خلائی اسٹارٹ اپ ادارے کے پہلیراکٹ نے سری ہری کوٹہ سے تاریخی اڑان بھری، ہر بھارتی شہری کا دل فخر سے سرشار ہوگیا۔وکرم ایس راکٹ کئی طرح کی خصوصیات کے ساتھ آراستہ ہے اور یہ دیگر راکٹوں کے مقابلیہلکا اور کم لاگت کا بھی ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ خلائی مشن پر دیگر ملک جو رقم خرچکررہے ہیں، بھارت کے اس خلائی راکٹ پر آنے والی لاگت اس سے بہت کم ہے۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت، خلاء￿ کے شعبے میں اپنی کامیابیمیں پڑوس کے ملکوں کو بھی شامل کررہا ہے۔ بھارت نے کل ایک سیٹیلائٹ خلاء￿ میں چھوڑا ہے،جسے بھارت اور بھوٹان نے مل کر تیار کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سیٹیلائٹ سے بہتعمدہ تصاویر ملیں گی، جس سے بھوٹان کو اپنے قدرتی وسائل کے بندوبست میں مدد ملے گی۔پی ایم مودی نے کہا کہ اس سیٹیلائٹ کے چھوڑے جانے سے بھارت اور بھوٹان کے مضبوط تعلقاتکی عکاسی ہوتی ہے۔ پی ایم مودی نے خلاء، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں شاندار کامکرنے پر نوجوانوں کی ستائش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ نوجوان بڑا سوچ رہے ہیں اور بڑاکام انجام دے رہے ہیں۔تکنیک سے وابستہ اختراع کے بارے میں بات کرتے ہوئے پی ایممودی نے کہا کہ بھارت ڈرونز کے شعبے میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے اسبات کو اجاگر کیا کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی ہماچل پردیش کے Kinnaur ضلعے میں ڈرونز کے ذریعے سیبایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائے گئے۔ Kinnaur دور دراز کا ایک ضلع ہے، جہاںاس سیزن میں شدید برفباری ہوئی ہے۔ ریاست کے بقیہ حصوں کے ساتھ اْس کا رابطہ کئی ہفتوںتک بہت دشوار ہوجاتا ہے۔ پی ایم مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ڈرون کی تکنیککی مدد سےKinnaur کے سیب اب اور تیزی کے ساتھ لوگوں تک پہنچ جائیںگے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے کسانوں کا خرچ بھی کم ہوگا اور سیب بھی ضائع ہونے سے بچجائیں گے۔