کانگریس کی کمان سنبھالتے ہی کھرگے سرگرم ،کئی اہم فیصلے کئے

کانگریس کے نومنتخب صدر ملکارجن کھرگے نے ۲۶؍ اکتوبر کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کئے اور ساتھ ہی ساتھ مودی سرکار کو تنقیدوں کا نشانہ بھی بنایا۔انہوں نے جہاں پارٹی کی متعدد اکائیاں تحلیل کردیں وہیں موجودہ حالات کے مطابق کانگریس کو آگے لے جانے کے لئے ایک ’اسٹیئرنگ کمیٹی ‘ بھی قائم کردی جو ۴۷؍ اہم اور سینئر لیڈران پر مشتمل ہے۔ اس میں سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ پرینکا گاندھی ، ڈاکٹر منموہن سنگھ اور دیگر لیڈران شامل ہیں۔
کھرگے نے عہدہ سنبھالا
ا س سے قبل ملکارجن کھرگے نے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور پارٹی کے سبھی سینئر لیڈران کی موجودگی میں پارٹی کی کمان سنبھالی ۔سونیا اور راہل کی موجودگی میں کھرگے نے خود کومزدور کا بیٹا بتایا۔دہلی میں کانگریس صدر دفترمیں بدھ کو کھرگے کو الیکشن کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد کھرگے نے باضابطہ کانگریس پارٹی کے قومی صدر کا عہدہ سنبھالا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے انہوں نے خطاب بھی کیا ۔ اس تقریب میں اسٹیج پر سونیا گاندھی ، راہل گاندھی ، کے وینو گوپال ، ملک واسنک ،مدھو سودن مستری اور دیگر کانگریس لیڈران موجود تھے۔کانگریس کے الیکشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج مدھوسودن مستری نے کھرگے کو کانگریس صدر کے طور پر انتخاب کا سرٹیفکیٹ سونپتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ۶؍ کر وڑ پرائمری ممبران ہیں اور تقریباً نو ہزار پانچ سو مندوبین کو منتخب کر کے انہیں کانگریس کے نئے صدر کا انتخاب کرنے کا حق دیا گیاتھا ۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے کھرگے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس انتخاب نے ثابت کردیا ہے کہ کانگریس میں اندرونی جمہوریت ہے۔ پارٹی نے ایک طویل سیاسی تجربہ رکھنے والے شخص کوصدر مقرر کیا ہے ۔
سونیا گاندھی کا خطاب
کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے اس موقع پر خطاب کے دوران جہاں ملکارجن کھرگے کو مبارکباد دی وہیں کہا کہ وہ ایک عرصے کے بعد اطمینان محسوس کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نےاپنی ذمہ داری پوری ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی ۔ وہ طویل عرصے تک کانگریس کی صدارت سنبھالتی رہیں۔اس دوران انہیں پارٹی لیڈروں کے ساتھ ساتھ پارٹی کارکنوں کا بھی بھرپور ساتھ ملا ۔ جس کے لئے وہ شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کھرگے کو ذمہ داری سونپتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ بہتر سے بہتر مظاہرہ کریں گے اور پارٹی کو نئی اونچائیوں کی طرف لے جائیں گے ۔
کھرگے کا خطاب
ملکارجن کھرگے نے بطور صدر اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ’’ آج میں ایک عام کارکن، مزدور کے بیٹے کو دیے گئے اعزاز کے لئے اظہار تشکر کرتا ہوں۔ تبدیلی دنیا کا اصول ہے اور یہ تبدیلی ہر میدان میں ہوتی ہے۔ آج ہمار ی پارٹی کے سامنے بھی بہت سارے چیلنج ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آج ہمارے ملک کے سامنے جمہوریت کے لئے جو بحران پیدا ہوا ہے، اس کا مقابلہ ہم کامیابی کے ساتھ کیسے کریں۔‘‘ کھرگے نے کہا کہ جس طرح آپ نے جمہوری طریقہ سے اپنا صدر منتخب کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اسی طرح پارٹی کے سبھی کارکنان اور لیڈر مل جل کر ایک ایسی طاقت بنیں گے جو ہمارے عظیم ملک کے سامنے موجود مسائل کا سامنا کریں گے۔ملکارجن کھرگے نے عہدہ سنبھالتے ہوئے کہاکہ آج کا لمحہ میرے لیے جذباتی لمحہ ہے ۔آج ایک ورکر ، مزدور کے بیٹے اور عام کارکن کو پارٹی کا صدر منتخب کرکے مجھے عزت بخشی گئی ہے۔ جس پارٹی کی قیادت گاندھی جی، نہرو جی، سبھاش چندر بوس ، سردار پٹیل ، مولانا آزاد، اندراگاندھی، راجیو گاندھی نے کی ہو، اس کی ذمہ داری سنبھالنا فخر کی بات ہے۔ کھرگے نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے جو آئین بنایا تھا اس کے تحفظ کے لئے ہمیںپوری طاقت سے لڑنا ہوگا۔ جو جمہوریت کانگریس نے قائم کی تھی اسے تبدیل کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن ہم مقابلہ کریں گے ۔ کھرگے نےراہل گاندھی کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے ہر مشکل کو در کنار کرتے ہوئے بھارت جوڑو یاترا نکالی جو کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔
کھرگے کے اقدامات
کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے تعلق سے بتایا کہ یہ کمیٹی پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز تنظیم کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جگہ پارٹی کو چلانے کے لئےکام کرے گی۔اسٹیئرنگ کمیٹی میں کانگریس صدر کے انتخاب میں کھرگے کے حریف رہے سینئر لیڈر ششی تھرور کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جبکہ گروپ ۲۳؍ کے لیڈروں میں سے صرف آنند شرما کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔کھرگے نے اس دوران کئی اہم فیصلے تو کئے اور کچھ فیصلوں کا اشارہ بھی دیا جن میں سی ڈبلیو سی کا الیکشن بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تعلق سے چند ماہ میں فیصلہ ہو جائے گا اور اتنے ہی عرصے میں یہ الیکشن بھی کروالیا جائے گا۔ کھرگے نے اس دوران مودی حکومت کو جم کر تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ملک کی معیشت سے لے کرسماجی حالت اور بے روزگاری تک تقریباً ہر موضوع پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ کھرگے نے مودی حکومت سے پو چھا کہ وہ روپے کی قدر کو بہتر بنانے اور مہنگائی کم کرنے کے لئے کیا اقدامات کررہی ہے وہ بتائے۔ ساتھ ہی غیر ملکی زرمبادلہ کی ذخیرہ میں آنے والی کمی پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ جو لوگ کچھ برس پہلے تک اس تعلق سے چیختے رہتے تھے اب وہ خاموش کیوں ہو گئے ہیں ؟ انہوں نے معیشت کی بری حالت پر سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح طور پر بتائے کہ اس وقت معیشت کی حالت کیا ہے اور وہ اسے بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات کررہی ہے ؟ اس دوران ملکارجن کھرگے نے فارین ایکسچینج کے تعلق سے سرکار کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن پارٹیوں کو اس بارے میں اعتماد میں لے کیوں کہ یہ قومی مسئلہ ہے اور اس پر مل بیٹھ کر تبادلہ خیال ہونا بے حد ضروری ہے۔