snow

سال2020اور2021کی طرح ہی 2022میں بھی قریب2ماہ قبل برف باری

سری نگر//سال2020اور2021کی طرح ہی 2022میں بھی قریب2ماہ قبل برف باری ہونے سے کشمیر وادی،خطہ پیرپنچال اوروادی چناب میں قبل از وقت موسم سرمانے دستک دی ۔خیال رہے 2020میں25اکتوبر اور2021میں 11اکتوبر کوبالائی علاقوںمیں پہلی برف باری ہوئی تھی جبکہ رواں سال19اور20اکتوبر کی درمیانی رات گلمرگ ،گریز،سادھنا ٹاپ،پیرکی گلی اوراہربل کولگام سمیت کئی بالائی مقامات پرسیزن کی پہلی برف باری ریکارڈ کی گئی ۔قبل ازوقت برف باری اورموسلا دار بارشیں ہونے سے تاریخی مغل روڑ،کرناہ کپوارہ شاہراہ اورگریز بانڈی پورہ شاہراہ پرگاڑیوںکی آواجاہی میں خلل پیداہوئی جبکہ درجہ حرارت میں اچانک گرائوٹ آنے سے کشمیر وادی اورپیرپنچال کے پار سردی کی شدت بڑھ گئی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیر کے اونچے علاقوں بشمول مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ ،سونمرگ،اہربل کولگام،شوپیان ،پیرکی گلی،سادھناٹاپ میں ہلکی سے بھاری برف باری، اورخطہ پیرپنچال کے آر پار میدانی علاقوں میں دوران شب شروع ہونے والی موسلادار بارشوںنے کشمیر وادی کیساتھ ساتھ خطہ پیرپنچال اورچناب وادی میں معمول سے پہلے سردی کی صورتحال پیدا کردی ہے۔حکام نے جمعرات کو کہاکہ ’’کشمیر کے کئی علاقوں بشمول گلمرگ، سونمرگ، گریز اور کرناہ میں درمیانی رات میں کافی برفباری ہوئی‘‘۔انہوںنے بتایا کہ سیاحتی مقام گلمرگ میں جمعرات کوصبح تک2 انچ سے زیادہ برف جمع ہوگئی ہے جبکہ وادی کے دیگر اونچے علاقوں میں زیادہ برف باری ہوئی ہے،اورکئی بالائی مقامات پر برف باری کاسلسلہ جمعرات کودوپہرتک جاری تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ شہر سری نگرکے زبروان پہاڑی سلسلے میں بھی رات کے وقت برف باری کے آثار ملے ہیں۔تاہم جمعرات کی صبح یہاں برف جمع نہیں پائی گئی جبکہ بارشوںکاسلسلہ جاری تھا۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ سری نگر شہر اور وادی کے دیگر علاقوں میں دوران شب سے ہی ہلکی اورموسلا داربارش ہوئی، جس سے درجہ حرارت میں کئی ڈگری تک کمی واقع ہوئی۔لگ بھگ دوماہ قبل سیزن کی پہلی برف باری ہونے سے کشمیرمیں لوگ موسم سرما کے لباس جیسے بنیان اور بھاری جیکٹس زیب تن کرنے پرمجبور ہوگئے۔تاہم سیزن کی پہلی برف باری نے ان سیاحوں کے چہروں پر خوشی لادی ہے جو ملک کے دیگر حصوں میں دیوالی منانے کیلئے یہاں پہنچے ہیں۔ دہلی کی رہنے والی لڑکی پریرنا کٹیال ،جو اپنی دوست کیساتھ بدھ کی سہ پہر سری نگر پہنچیں ،نے کہاکہ برف باری کاہونا ہمارے لئے سونے پرسہاگاجیسا ہے۔انہوںنے کہاکہ آج ہم سونہ مرگ جارہے ہیں ،کل گلمرگ جاناہے ۔ حیدرآباد کے رہائشی ایس اروند نے کہاکہ ہم دیوالی کے موقعہ پر پٹاخوں سے ہونے والی آلودگی سے بچنے کیلئے کشمیر کے خزاں کے رنگوں سے لطف اندوز ہونے آئے تھے۔ یہ برف باری ہمارے لئے ایک غیر متوقع بونس ہے۔ایک ٹریول ایجنٹ شعیب علی نے کہا کہ برف باری کی اطلاعات نے اس سال کشمیر کی سرمائی سیاحت میں نئی دلچسپی پیدا کی ہے۔انہوںنے کہاکہ پہاڑوں میں پہلی برف باری منگل کو ہوئی تھی اور میں نے موسم سرما کے پیکجوں کے بارے میں بدھ کے روز باقاعدہ کلائنٹس کی کالز میں مصروف دن گزارا۔علی نے کہاکہ امید ہے کہ موسم سرما کی سیاحت کو برقرار رکھنے کے لیے اس موسم سرما میں اچھی برف باری ہوگی۔تاہم، جنوبی کشمیر میں سیب کے کاشتکار بہت پریشان ہیں کیونکہ دسمبر سے پہلے ہونے والی بھاری برف باری سے نہ صرف اس سال فصل تباہ ہوگی بلکہ درختوں کو بھی نقصان ہوگا۔شوپیاں کے ایک سیب کے کسان بشیر احمد نے کہاکہ ہم نے لگاتار تین سالوں سے ابتدائی یاقبل ازوقت برف باری کاسامنا کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ صرف گزرنے والا واقعہ تھا کیونکہ اس وقت شدید برف باری ان درختوں کو نقصان پہنچائے گی جو ابھی تک پھلوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سال ابتدائی کٹائی نے کسی بھی بڑے نقصان کے خلاف یقینی بنایا ہے، لیکن20 فیصد فصل اب بھی درختوں پر ہے۔اس دوران معلوم ہواکہ جمعرات کودوپہرکے وقت شمالی کشمیرمیں موسم میں قدرے بہتری دیکھنے کوملی ،تاہم سری نگر میں وقفے وقفے سے ہلکی بارشوںکاسلسلہ سہ پہرتک جاری تھاجبکہ جنوبی کشمیرمیں موسمی صورتحال ابترتھی اورموسمیاتی ماہرین جمعرات کی شام تک جنوبی کشمیرمیں موسم خراب رہنے کاامکان ظاہر کیا ہے ۔محکمہ موسمیات نے دن کے آخر میں موسمی حالات میں بہتری کی پیش گوئی کی ہے اور ہفتہ خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔