حکومت نے جموں وکشمیر میں شفاف اور جواب دہ حکمرانی کا نظام قائم کیا ہے

سرکاری محکموں میں مالی نظم و ضبط لانے والے اقدامات میں ایمپاور منٹ، بی اِی اے ایم ایس ،جے کے پے سسٹم بھی شامل

سری نگر//حکومت جموںوکشمیرنے ایک منفرد نظام قائم کیا ہے جس سے ہر کام کو پبلک ڈومین میں ڈالا جارہا ہے ۔ اِس طرح ورک کلچر میں زیادہ سے زیادہ جواب دہی اور شفافیت قائم ہورہی ہے اور اِس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ لوگوں کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق رقم خرچ کی جائے۔حکومت کی متعدد اِصلاحات سے ترقیاتی حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے میں مدد اور یہاں تیزی سے ترقی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔فوٹو گرافی کے شواہد اور جیو کوآرڈی نیٹس سے ترقیاتی منصوبوں کی مناسب دستاویزات کاموں کی اَنجام دہی میں شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے ۔ شہریوں کے لئے بااِختیار بنانے کے پورٹل پر 32,889کام آن لائن دستیاب ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ متعین تصریحات کے مطابق کئے جارہے ہیں۔جموںوکشمیر یوٹی نے حکومت کی طرف سے کی گئی متعدد مالی اصلاحات اور مداخلتوں سے فائنانشل مینجمنٹ میں شفافیت کی ایک بے مثال سطح حاصل کی ہے جس میں ’’ بی اِی اے ایم ایس‘‘ ( بجٹ کا تخمینہ ، مختص اورمانیٹرنگ سسٹم) سے فنڈس کی سرگرمی کے لحاظ سے آن لائن ریلیز ،امپاورمنٹ ( بامعنی شفافیت کے لئے کئے جانے والے کاموں کی نگرانی اور عوامی جائزہ او روسائل کو فعال کرنا ) پورٹل جو منصوبوں اور متعلقہ اخراجات کی تفصیلات فراہم کرتا ہے اور اسے پبلک ڈومین میں رکھتا ہے ،اِنتظامی اور تکنیکی منظوریوں ، اِی ٹینڈرنگ ، جیو ٹیگ شدہ تصویروں کو ادائیگیوں کے لئے لازمی بناتا ہے ، ’’جے کے پے منٹ سسٹم ‘‘ سے آن لائن بِلنگ ، جی ایس ٹی کو بہتر کرنا، اِی سٹیمپنگ ، اِی۔ جی آر اے ایس ، ڈیجیٹل ادائیگی ، جی اِی ایم کا نفاذ ، بجٹ اور آڈِٹ ، بیک ٹو وِلیج اور میرا قصبہ میرا فخر کے اقدامات اور پروجیکٹوں کی صدفیصد فزیکل تصدیق سے متعلق اہم دستور العمل کی اشاعت بھی شامل ہے۔اِنتظامیہ نے اِس سلسلے میں اختراعی اَقدامات کو کامیابی سے عملایا ہے جس میں بی اِی اے ایم ایس ، جے اینڈ کے پے سسٹم سے بِلوں کی آن لائن جمع کرنا ، لازمی اِنتظامی منظوری ، تکنیکی پابندیاں اور اِی ۔ ٹینڈرنگ ، ڈیجیٹل ادائیگیاں ، جی ایف آر ، جی اِی ایم اور متعلقہ اقدامات شامل ہیں جس نے یہاں کے سرکاری محکموں میں مالیاتی نظم و ضبط لانے میں بہت مدد کی ہے۔حکومت جموںوکشمیر کی طرف سے اَپنے مالیاتی ڈھانچے میں متعارف کی گئی کلیدی اِصلاحات نے اِضافی شفافیت اور جواب دہی کا تصور کرتے ہوئے جموںوکشمیر یوٹی کے مالیاتی نظام کو ملک میں کسی بھی دوسرے ترقی پسند اِنتظامات کے برابرلایا ہے۔مالیاتی اِنتظام میں بہتر حکمرانی کو فروغ دینا حکومت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک رہا ہے ۔جموںوکشمیر میں مالیاتی نظام کہیں بھی سب سے زیادہ شفاف نظاموں اور اہم تبدیلیوں میں سے ایک ہے جنہوں نے جموںوکشمیر یوٹی میں جڑیں مضبوط کی ہیں۔مرکزی وزیر خزانہ او رکارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے جموں وکشمیر کے اَپنے حالیہ دورے کے دوران کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے مالیاتی سرگرمیوں ، اِنتظامیہ میں شفافیت اور جموںوکشمیر یوٹی کی معیشت میں ترقی میں اِضافہ ہوا ہے ۔اُنہوں نے کہا ،’’ جموں وکشمیر میںگذشتہ دو برسوں میں جو کام ہوا ہے وہ بہت شاندارہے ۔ گورنمنٹ پرکیورمنٹ ، بھرتی ، اَپنے وسائل کا سرکاری خرچ ، ٹیکس لگانا یا وسائل کی تعیناتی ، جو بھی ہو وہ اَب پوری شفافیت کے ساتھ چوبیس گھنٹے آن لائن دستیا ب ہیں‘‘۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس لئے حکمرانی میں شفافیت لانے کے معاملے میںخود آپ کو بتاتا ہے کہ وہ زمین پر خرچ کئے جانے والے ہر ایک روپے کے لئے جواب دہ ہیں۔