Kashmiri Apple

8000کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی کشمیری سیب کی صنعت

اندرون ملک ایرانی سیب نقصان کاباعث ،بنگلہ دیش تک رسائی میں اضافی درآمدی فیسImport-Dutyحائل

سری نگر//8000کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی، کشمیر کی سیب کی صنعت (Fruit-Industry)کو اس خطے کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں30 لاکھ سے زیادہ لوگ براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ یہ صنعت جموں و کشمیر کی کل گھریلو پیداوار میں تقریباً 8 فیصد کا حصہ ڈالتی ہے اور8.73 کروڑ افرادی دن کام فراہم کرتی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں، سیب کے کاشتکار موسمیاتی تبدیلیوں اور پھلوں کی سیاستکاری کا شکار ہو رہے ہیں۔سوپور منڈی فروٹ گروورس اینڈ ڈیلرس ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمدملک عرف کاکہ جی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیب کی صنعت کو پچھلے5 سالوں میں سیاسی انتشار اور دیگر عوامل کی وجہ سے پے درپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گزشتہ سال بہتر نتائج کی اُمید تھی کیونکہ حکومت کی جانب سے کئی حوصلہ افزاء اقدامات اُٹھائے گئے۔لیکن بدقسمتی سے، ملک کے بازاروں اورمنڈیوں میں ایرانی سیب کی آمد نے، جو بغیر ٹیکس کے مارکیٹ میں داخل ہوئے ہیں، ہماری مشکلات میں اضافہ کر دیا ۔خیال رہے شمالی کشمیر میں سوپور فروٹ منڈی تقریباً 40 سال قبل قائم کی گئی تھی اور 5000 کروڑ روپے کی سالانہ تجارت کیساتھ پھلوں کی پیداوار اورکاروبارکے حوالے سے ایشیا ء کی سب سے بڑی پھل منڈیوں میں سے ایک ہے۔میوہ کاروبار سے وابستہ لوگ کہتے ہیں کہ وادی کشمیر میں 2400 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے سیب ملک میںاپنی مارکیٹ کھونے کے دہانے پر ہیں اور تاجروں کا دعویٰ ہے کہ سستے ایرانی سیب نے ہندوستانی منڈیوں کو بھر دیا ہے جس کی وجہ سے اعلیٰ معیار کے کشمیری سیبوں کی مانگ اور قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔تاہم میوہ کاروباریوں کاکہناہے کہ حکومت کی نئی اسکیم پرواز اور کشمیری سیب کی نیپال اوربنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک تک رسائی نے اُمید کاایک نیا دروازہ کھول دیا۔سوپور منڈی فروٹ گروورس اینڈ ڈیلرس ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمدملک عرف کاکہ جی نے کہاکہ ہمارے یہاں سے دونوں ملکوں کوکشمیری سیب کی درآمدگی میں کچھ نئی رکاوٹیں حائل ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ برس بنگلہ دیش کی حکومت نے کشمیری سیب کی درآمدگی پر ’درآمدی فیس‘یعنیImport-Duty،9لاکھ فی ٹرک رکھی تھی لیکن امسال درآمدی فیس میں تقریباًاڑھائی لاکھ کااضافہ کیا ۔فیاض ملک نے بتایاکہ کشمیر سے میوہ پیٹیوں وڈبوں سے لدی12یا14ٹائر والے بڑے ٹرک جب بنگلہ دیش کی سرحدپر پہنچ جاتے ہیں تویہاں اُن سے فی ٹرک تقریباً12لاکھ روپے بطورImport-Duty لئے جاتے ہیں ۔فروٹ منڈی سوپور کے صدر کاکہناتھاکہ انہوںنے بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے کشمیری سیب پر درآمدی فیس Import-Dutyمیں فی مال بردار ٹرک بیک وقت اڑھائی لاکھ روپے اضافے کامعاملہ حکومت جموں وکشمیر اورمتعلقہ اعلیٰ حکام کی نوٹس میں بھی لایا ،اورہم نے استدعاکی تھی کہ اس معاملے کومرکزی حکومت کی نوٹس میں لایا جائے تاکہ مرکزی حکومت اس معاملے کوبنگلہ دیش کیساتھ حکومتی سطح پر اُٹھاسکے ،لیکن ابھی تک اس ضمن میں ہمیں کوئی راحت نہیں ملی ہے ۔فیاض ملک عرف کاکہ جی نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیکر کشمیری فروٹ گروورس اورڈیلرس کو راحت پہنچانے کی کوشش کریں ۔