انتہا پسندی کا مقابلہ اور نوجوانوں کوملی ٹنسی سے دُور رکھنا اہم ترجیح: مرکزی وزارت داخلہ
سری نگر//مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر میں انسداد ملی ٹنسی اور فنڈنگ کی کارروائیوں کے علاوہ کرپٹو کرنسی کے اُبھرتے ہوئے چیلنجوں اور ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ کیلئے ایک تفصیلی دستاویز کا مسودہ تیار کیا ہے۔دستاویز کو کچھ دوسری ریاستوں کیساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے جن کی سرحدیں پاکستان کیساتھ ہیں یا جنہیں بائیں بازو کی انتہا پسندی کا سامنا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ایک میڈیا رپورٹ میں ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ جموں اور کشمیر کیساتھ ساتھ کچھ دوسری ریاستوں کو جو شورش کا سامنا کر رہی تھیں، میں ملی ٹنسیکیلئے حوالا فنڈنگ کے بعد کرپٹو کرنسی سیکورٹی گرڈکیلئے ایک اور بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ذرائع نے نشاندہی کی کہ حال ہی میں، ریاستی تحقیقاتی ایجنسی SIAنے جموں و کشمیر میں ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا تھا ملی ٹنسی کی فنڈنگ کیلئے کرپٹو کرنسی کا استعمال کر رہا تھا،جس کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے پولیس کے سائبر سیلز اور دیگر متعلقہ ونگز کویہ ہدایت دی کہ وہ کرپٹو کرنسی پر کڑی نگرانی رکھیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کی مرتب کردہ تفصیلی دستاویز میں کہا گیا کہ کرپٹو کرنسی ملی ٹنسی کو ہوا دینے کے مقصد کیلئے کچھ حد تک حوالا فنڈنگ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سائبر سیلز کو اس پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہاگیاکہ جموں و کشمیر میں حوالا چینلز کی ایک سیریز کا بھی پردہ فاش کیا گیا ہے جس کا آغاز جنوبی افریقہ سے ہوا تھا اور سورت، ممبئی اور نئی دہلی کے راستے جموں پہنچا تھا۔ اس چینل نے حریت پسندی کی فنڈنگ کیلئے جموں و کشمیر میں 4سے5کروڑ روپے مالیت کی حوالات کی رقم ڈالی تھی۔ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کے وقت، جموں پولیس نے ماڈیول سے نقد رقم میں 17 لاکھ روپے مالیت کی حوالا رقم برآمد کی۔انسداد ڈرون ٹیکنالوجی کو بھی اہم ترجیحات سے ایک کے طور پر درج کیا گیا ہے کیونکہ جموں و کشمیر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے بہت سے ایسے ماڈیولز کو دیکھا ہے جو ڈرون کے ذریعے سرحد پار سے ہتھیاروں ومنشیات کی کھیپ حاصل کرنے کے بعد ملی ٹنٹوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرتے تھے۔ کچھ انسداد ڈرون ٹیکنالوجیز خاص طور پر فوج کے پاس ہیں جبکہ کچھ دیگر اعلیٰ سیکورٹی سے متعلقہ ایجنسیاں تیار کر رہی ہیں۔ حکومت ڈرون کو نشانہ بنانے کے لئے انتہائی قابل اعتماد ٹیکنالوجی چاہتی ہے اور جب تک یہ نہیں ہو جاتا وہ سیکورٹی ایجنسیوں کی نگرانی چاہتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ڈرون کے ذریعے گرائے گئے ہتھیار ملی ٹنٹوں تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوں اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے اسے برآمد کیا جائے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جموں میں، پولیس نے بڑی تعداد میں ہتھیاروں کی کھیپ برآمد کی ہے جو ملی ٹنٹوںکے اوئور گراؤنڈ ورکروں(OGWs) کے ذریعے اٹھائے گئے تھے اور جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد پر ڈرون کے ذریعے گرائے جانے کے بعد دہشت گرد گروپوں کو سپلائی کئے گئے تھے۔مرکزی وزارت داخلہ نے سرحدی علاقوں پر خصوصی توجہ دینے پر بھی زور دیا ہے جہاں OGWs کی نقل و حرکت نہ صرف اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور نقدی بلکہ منشیات کی کھیپ حاصل کرنے کیلئے خود کو متحرک کر سکتی ہے کیونکہ جموں و کشمیر اور پڑوسی ریاست پنجاب میں منشیات کی دہشت گردی بھی ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ذرائع نے کہا ہے کہ منشیات کے ذریعے پیدا ہونے والے فنڈز کو دہشت گرد تنظیمیں جموں اور کشمیر میں ملی ٹنسی کو ہوا دینے کیلئے بھی استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ اوراس کے استعمال کو روکنے کیلئے مرکز اور یوٹی دونوں حکومتوں کی بڑی توجہ مرکوز رہی ہے۔سیکورٹی ذرائع نے مزیدبتایاکہ جہاں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے اقدامات نوجوانوں کوملی ٹنسی سے دور کرنے کیلئے اہم ترجیح رہے، وہیں آنے والی5G ٹیکنالوجی کے اُبھرتے ہوئے چیلنجز کو بھی اہم خدشات کے طور پر درج کیا گیا ہے جن کے لئے جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو پیشگی تیاری کرنے کیلئے کہاگیاہے۔ذرائع کے مطابق اوور گراؤنڈ ورکرز بھی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ وہ ملی ٹنسی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو ان علاقوں میں سے ایک چیلنج کے طور پر سمجھا جاتا ہے جہاں چوکسی کی ضرورت تھی کیونکہ اسے پاکستان میں مقیم ملی ٹنٹوں کے ذریعہ مصیبت کو ہوا دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا حالانکہ جموں اور کشمیر میں اس طرح کے طریقوں کو مؤثر طریقے سے روکا گیا ہے۔










