سری نگر//کچھ پارٹیوں اور سیاسی لیڈران کی جانب سے شدید الزامات لگانے کہ سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کانگریس سے یہ سمجھ کر علیحدگی اختیار کی تھی کہ وہ جموں و کشمیر میں اسد الدین اویسی کی طرح بی جے پی کی مدد کرنے کے لئے ہی اپنی پارٹی بنائیں گے پر آذاد نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے بغیر کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں جبکہ انہوں نے کہا کہ “بی جے پی” کو مسلم اکثریتی علاقوں میں کوئی ووٹر بیس نہیں ہے جبکہ کشمیر، چناب ویلی یا پیر پنجال کے علاقے میں بی جے پی کا کوئی ووٹ بینک نہیں ہے۔ میں ہندو علاقے میں ان کی مدد نہیں کر سکتا اور مسلم علاقوں میں بی جے پی کا نام بھی کوئی سننے کو تیار نہیں ہے۔ اب میں ان کی مدد کیسے کروں؟ الزامات لگانے سے پہلے انہیں کم از کم عقل سے بات کرنی چاہیے، مجھ اور اویسی میں فرق ہے۔ یوپی میں کچھ حلقے ایسے ہیں جہاں 90 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔ بی جے پی وہاں علاقائی پارٹیوں سے لڑتی ہے، یہاں مسلم اکثریتی علاقوں میں کوئی بی جے پی نہیں ہے۔۔۔۔ان باتوں کا اظہار کانگریس کے سابق سینئر لیڈر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی نے کے این ایس (کشمیر نیوز سروس ) کے مدیر اعلی محمد اسلم بھٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔کے این ایس کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کچھ سیاست دانوں کے الزامات ہے کہ غلام نبی آزاد بی جے پی کیلئے ایک ٹیم بنا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ‘‘میں واحد شخص تھا جس نے خصوصی درجہ کی منسوخی پر پارلیمنٹ میں بی جے پی کا مقابلہ کیا تھا اور میں چار گھنٹے دھرنے پر بیٹھا، پھر فیصلے کے خلاف تقریر کی۔ دفعہ 370کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تقسیم پر کانگریس کے کسی لیڈر نے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف کوئی بات نہیں کی اور کوئی بھی میری تقریروں کو دیکھ سکتا ہے جبکہ کانگریس کے G-23 گروپ کے صرف تین لیڈروں نے میرے ساتھ پارلیمنٹ میں بات کی جس میں کپل سبل، ششی تھرور شامل ہیں تاہم غلام نبی آزاد نے کہا کہ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ جو آدمی کشمیر پر عسکری تنظیم ایچ -ایم اور بی جے پی سے لڑتا رہا وہ بی جے پی میں کیسے شامل ہو سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ وزیر اعظم کے ساتھ پارلیمنٹ کے واقعات کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی میرے جانے سے نہیں ایک حادثے میں کچھ گجراتیوں کی موت کی وجہ سے رو پڑے تھے۔سابق وزیر اعلی نے مزید کہا کہ پدم بھوشن صرف مجھے نہیں دیا گیا بلکہ ترون گوگوئی سابق کانگریس سی ایم، ایس سی جمیر سابق سی ایم ناگالینڈ کانگریس کو بھی ملا لیکن راہول گاندھی اور سونیا جی نے ان کو مبارکباد دی لیکن میں نے کشمیر اور پنجاب کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ لڑی، مجھے نہیں دی گئی اور انہیں صرف میرے ایوارڈ سے مسئلہ ہے، ایسا کیوں؟ غلام نبی آزاد نے کے این ایس کو یہ بھی بتایا کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاست کی بحالی، مقامی نوجوانوں کے لئے نوکریوں اور زمین کے حصول کے لئے اپنا خون دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘میں نے 15 سال پہلے وزارت اعلیٰ چھوڑی تھی، آج بھی لوگ مجھ سے پیار کرتے ہیں، ورنہ لوگ کرسی سے ہٹتے ہی ایک دن میں سیاست دانوں کو بھول جاتے ہیں جبکہ ان تمام برسوں میں ہزاروں لوگ مجھ سے ملے، لوگوں کے دلوں میں میرے لیے عزت ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں نے میرے لئے جو پیار دکھایا ہے اس کے لئے میں اپنا خون دے سکتا ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ لوگوں کو کچھ سیاسی لیڈروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، وہ مجھ پر بی جے پی میں شامل ہونے کا الزام لگاتے البتہ یہ سچ ہے کہ بی جے پی ان کے خلاف اپوزیشن کے طور پر میرے کام کے لئے میرا احترام کرتی ہے اور کم از کم وہ مجھے کانگریس کی طرح گالی نہیں دیتے جس کے لئے میں نے سب کچھ کیا۔ سابق کا کانگریس لیڈر نے کہا کہ اب کانگریس اپنے ہی لیڈران سے بھیک مانگ رہی ہے کہ میری کردار کشی کریں کیونکہ دوسری چیزیں مجھے پریشان نہیں کرتی ہیں۔نیشنل کانفرنس کے سرپرست ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی طرف سے تجویز کردہ کانگریس چھوڑنے کے بعد “پی اے جی ڈی” میں شامل ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ’’مجھے کسی کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ہے، میری اپنی شناخت ہے، بی جے پی کے ساتھ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں اپنی لڑائی جاری رکھوں گا جو میں نے پارلیمنٹ میں شروع کی تھی۔ مجھے ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی میں سفر کرسکا، میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے زمین اور نوکریوں کے حصول کی یہ جنگ لڑ رہا ہوں اور میں اتحاد کر سکتا ہوں لیکن بی جے پی کے ساتھ نہیں اور نہ ہی کسی پارٹی یا لیڈر کے خلاف بولوں گا ، میں اپنا نقطہ نظر لوگوں کے سامنے پیش کروں گا۔انہوں نے کہا کہ کسی کو علاقے یا مذہب کی بنیاد پر ترقی فراہم نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس سے امتیازی سلوک کیا جاسکتاہے اور یہ میرا حکمرانی کا منتر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں آئین کی قسم کھاتا ہوں اور اللہ پر یقین رکھتا ہوں کہ میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کروں گا۔جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد نے کہا کہ “کانگریس سے میرے اخراج پر فاروق صاحب کے ردعمل کے بعد میری عزت میں اضافہ ہوا ہے تاہم ہم سیاسی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ لڑے ہیں لیکن ذاتی باہمی احترام ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے تھا اور ہمارے بارے میں اچھی باتیں کہنے کے لئے میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہمارے خلاف کچھ نہیں کہااور جموں و کشمیر کے سب سے قد آور لیڈر کو ہمارے بارے میں اچھا کہتے ہوئے اچھا لگا۔کانگریس سے نکلنے کی اپنی وجوہات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئیانہوں نے کہا کہ”ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے، زمین سطح پر کچھ بھی نہیں ہے اور پچھلے پانچ برسوں سے انہیں آئینہ دکھا رہا تھا۔ غلام نبی آزاد نے مزید کہا کہ 2014 میں میں نے اپنی پارٹی کو بلاک، ضلع اور ریاستی سطح پر مضبوط اور کام کرنے اور ایجی ٹیشن شروع کرنے کے بارے میں 10 صفحات پر مشتمل ایک مقالہ دیا اور وہ کاغذات” اے آئی سی سی” کے سٹور میں پڑا ہوا ہے اور 9 سال تک میں کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کا چیئرمین رہا لیکن کچھ نہیں ہوا جبکہ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار کانگریس پارٹی نے کسی کو لیڈر آف پالیٹیشن نامزد نہیں کیا گیا اور ہم اپنی سیٹیں کھو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ G-23 کے حصے کے طور پر ہم نے پارٹی قیادت سے کہا کہ یا وہ ٹھوس اقدام اٹھائیں یا کانگریس کو گرتے ہوئے دیکھیں۔کے این ایس کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ وہ اپنی پارٹی کب شروع کریں گے اور ان کی پارٹی کا نام کیا ہوگا، انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے تاہم انہوں نے کہا کہ ہندوستان بھر سے ہزاروں لوگ پارٹی میں شامل ہوں گے اور یہ ایک قومی پارٹی ہوگی لیکن جموں و کشمیر میں یونٹ جلد ہی تشکیل دیا جائے گا کیونکہ وہاں پر انتخابات جلد ہی ہوسکتے ہیں










