ڈاکٹر راگھو لنگر اور ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے تمام محکموں اور اَضلاع کی طرف سے

ایس ٹی سی ٹرائبل سب پلان کی تشکیل کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر نے تمام محکموں سے قبائلی ترقیاتی منصوبے کی تشکیل کے لئے پہلی مشق شروع کی ہے جس میں تمام محکموں کی طرف سے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں قبائلی آبادی کی ترقی کے لئے مرکزی معاونت والی سکیموں اور یونین ٹیریٹری کیپکس کے شیڈولڈ ٹرائب کمپوننٹ کے طور پر بنایا گیا ہے ۔ اِس برس 134 قبائلی دیہاتوں میںعملانے والی ماڈل وِلیج سکیم ( پی ایم اے اے جی وائی ) کے لئے بھی طریقوں کو حتمی شکل دی گئی۔سیکرٹری پلاننگ ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈی ایم ڈی ) ڈاکٹر راگھو لنگر اور سیکرٹری قبائلی اَمور ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے ٹی ایس پی کی تشکیل،قبائلی بہبوداور ترقی کی خاطر بجٹ مختص کرنے کے طریقوں کو حتمی شکل دینے کے لئے تمام اِنتظامی محکموں اور ڈائریکٹوریٹ میںپلاننگ وِنگ کے ڈائریکٹر وں اور جوائنٹ ڈائریکٹروں کے ساتھ ایک میٹنگ طلب کی۔سیکرٹری پی ڈی ایم ڈی ڈاکٹر راگھو لنگر نے مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق تمام مرکزی معاونت والی سکیموں اور یوٹی کے کیپکس بجٹ کے ایک ضلع کے حصے کے طور پر قبائلی ترقیاتی منصوبے کی تشکیل کی قانونی ضرورت پر زو ر دیا۔اُنہوں نے مختلف محکموں میں پلاننگ وِنگوں کے ڈائریکٹروں ، جے ٹی ڈائریکٹروں اور ڈپٹی ڈائریکٹروں سے کہا کہ وہ نوٹیفائیڈ فارمیٹس پر مشق شروع کریں اور ایم آئی ایس پورٹل پر پلان اَپ لوڈ کریں۔ اُنہوں نے قبائلی آبادی کی جامع ترقی کے لئے مرکوز منصوبہ بندی پر بھی بات کی۔ سیکرٹری ٹی اے ڈی ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے قبائلی ترقیاتی منصوبے کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے نیتی آیوگ اور مرکزی وزراء کے رہنما خطوط پر غور کیاجس میں تمام محکموں کے لئے منصوبہ بند قبائلی ترقی کے لئے قبائلی آبادی کے تناسب سے فنڈس مختص کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ قبائلی ترقیاتی منصوبہ تمام مرکزی معاونت والی سکیموں کے شیڈلوڈ ٹرائب کمپوننٹ ( ایس ٹی سی ) اور یوٹی کیپکس کے قبائلی ذیلی منصوبے پر مشتمل ہوگا جسے محکمہ کی طرف سے ٹی ایس پی کو خصوصی مرکزی اِمداد سے بڑھایا جائے گا۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ پلاننگ کمیشن نے 2014 ء میں رہنما خطوط جاری کئے جس میں تمام محکموں کے لئے سی ایس ایس اور سٹیٹ /یوٹی کیپکس دونوں کے تحت مختص کرنے کے لئے قبائلی آبادی کے تناسب سے قبائلی ذیلی منصوبہ تیار کرنا لازمی قرار دیا ۔ نیتی آیوگ نے سٹیٹ / یوٹی کے سالانہ منصوبوں کی منظوری کے لئے پہلے سے شرط کے طور پر ٹی ایس پی کی تشکیل کو لازمی قرار دیا تاہم جموںوکشمیر میں اِس عمل کو اَپنا یا نہیں گیا۔قبائلی برادریوں کی جامع ترقی کے لئے حکومت کے عزم کے مطابق قبائلی اَمور محکمہ اور منصوبہ ،نگرانی اور ترقی محکمے نے تمام محکموں ، مشنوں اور اَضلاع سے قانونی قبائلی ترقیاتی منصوبے کے لئے مشق شروع کی ہے۔محکمہ قبائلی اَمور نے قبائلی دیہاتوں میں سہولیات کے فرق کا تجزیہ بھی پیش کیا جس میں تعلیم ، طبی نگہداشت ، ویٹرنری کیئر ، بجلی کی فراہمی ، پی ڈی ایس ، پانی کی فراہمی وغیرہ سمیت مختلف محکموں کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ محکمہ نے قانونی قبائلی ذیلی منصوبے کے تحت تمام محکموں سے مختص کرنے کے لئے 2,843 گاؤں اور 314 شہری وارڈوں کا تخمینہ لگایا ہے۔ محکمہ نے پی ایم اے اے جی وائی ماڈل وِلیج سکیم کے لئے گاؤں کے ترقیاتی منصوبے کے فارمیٹس کا بھی اشتراک کیا جس کے لئے تمام محکموں سے ٹی ایس پی فنڈس کا 43فیصد جمع کرنے کی ضرورت ہے۔