ڈرونز سے اسلحہ چھوڑنے کا مقدمہ، ملزم کورٹ بلوال جیل میں دوران نمازجاں بحق

دل کادورہ پڑا،ڈاکٹروںنے مردہ قراردیا:پولیس

سری نگر// جموں سرحد میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ ڈرون کے ذریعے گرائے گئے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کو جمع کرنے اور لے جانے میں ملوث نیٹ ورک کے ایک مشتبہ رکن کی یہاں کورٹ بلوال جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)، جو کٹھوعہ میں 29 مئی کو دھماکہ خیز مواد گرانے کے معاملے میں ملوث ماڈیول کی تحقیقات کر رہی ہے، نے اس مہینے کے شروع میں ایک ملزم منی محمدساکنہ رام پورہ کٹھوعہ کو گرفتار کیا تھا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ انڈر ٹرائل ملزم منی محمد باقی قیدیوں کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک گر گیا، اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ملزم منی محمد کو دل کا دورہ پڑا۔کٹھوعہ ضلع کے رام پورہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ منی محمد پر دفعہ 121 (جنگ چھیڑنے، یا حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش کرنا)، 121a (سازش) /122 (جمع کرنا) کے الزامات کے ساتھ گرفتارکیا گیا۔ حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کے ارادے سے ہتھیار، دھماکہ خیز مادہ ایکٹ کی، آئی پی سی16 (دہشت گردانہ کارروائی کے لیے کسی بھی شخص یا افراد کو بھرتی کرتا ہے)، 18 (سازش رچنا) اور20 (دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونا)کے تحت 10 اگست کو کورٹ بلوال جیل بھیج دیا گیا۔ابتدائی طور پر یہ کیس کٹھوعہ کے راج باغ پولیس اسٹیشن میں 29 مئی کو درج کیا گیا تھا اور 30جولائی کو این آئی اے نے اسے دوبارہ درج کیا تھا۔سیکورٹی حکام نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی ڈرون کے ذریعہ ہتھیار گرائے جانے کی تحقیقات کے سلسلے میں این آئی اے نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے پانچ اضلاع میں تلاشی لی۔پولیس کے مطابق یہ ماڈیول2 سال سے کام کر رہا تھا اور بین الاقوامی سرحد کے ساتھ پاکستانی جانب سے ڈرون کے ذریعے گرائے جانے والے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کو جمع کرنے اور لے جانے میں ملوث تھا۔