پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے پر ہی ہوگی صورتحال واضح ،تحقیقات شروع:پولیس
سری نگر//جموں شہر کے توی وہار سدھرا علاقہ میں بدھ کی صبح اُسوقت سنسنی اورسراسیمگی پھیل گئی ،جب یہاں 2رہائشی مکانات سے3 خواتین سمیت 6 افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ 6افرادکی پُراسرارموت پرقتل کاشبہ ظاہر کیاجارہاہے۔ تاہم پولیس نے اس سلسلے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق جموں پولیس کے ذرائع نے بتایاکہ برزلہ سری نگرکی ایک خاتون نے پولیس سے رابطہ کرکے یہ اطلاع فراہم کی کہ جموںمیں مقیم اُس کابھائی فون کال نہیں لے رہاہے ،اورخاتون کو اپنے بھائی کی سلامتی کے بارے میں فکرلاحق تھی ۔اس اطلاع کے ساتھ ہی سدھواکے لوگوںنے بھی پولیس کوبتایاکہ یہاں ایک مکان سے کچھ بدبو آرہی ہے ۔بدھ کی صبح جب پولیس کی ٹیم افسران کی قیادت میں یہاں پہنچی توپولیس نے مقامی شہریوں کی موجودگی میں پہلے ایک مکان کادورازہ کھولا۔پولیس کی ٹیم نے دیکھا کہ یہاں 4افرادکی نعشیں پڑی ہوئی ہیں ۔پولیس نے بتایاکہ اسکے بعدجب دوسرے نزدیکی مکان کوکھولاگیاتو وہاں سے مزید 2نعشیں ملیں ۔ تمام نعشوں کو جموں گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال کے مردہ خانہ میں رکھا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی وہ اس حوالے سے بیان دے سکیں گے۔ ساتھ ہی پولیس کی ایف ایس ایل ٹیم نے جائے وقوعہ سے نمونے بھی حاصل کئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ زہریلی چیز نگلنے کا معاملہ بتایا جا رہا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سکینہ بیگم زوجہ مرحوم غلام حسن، ان کا بیٹا ظفر سلیم اور2 بیٹیاں روبینہ بانو، نسیمہ اختر کے علاوہ نور الحبیب ولد حبیب اللہ، سجاد احمد ولد فاروق احمد ماگرے شامل ہیں۔ پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ یہ گھر نور الحبیب کا ہے جبکہ سکینہ اس گھر کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ یہ خاندان ڈوڈہ کا رہائشی ہے جبکہ نور الحبیب سری نگر کا رہنے والا تھا۔ پولیس سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق نور الحبیبمرکزی گھر میں رہتا تھا جبکہ سکینہ اور اس کی فیملی پچھلے کمروں میں رہتی تھی۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ گھر کے تمام افراد تین چار دن سے نظر نہیں آرہے تھے۔پولیس ذرائع نے مزید کہا کہ ان کے اہل خانہ کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔دریں اثناء جی ایم سی جموں کے ایک سینئر ڈاکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ تمام نعشوں کیساتھ ڈرپ لگی ہوئی ہے، جبکہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد معلوم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے دیگر افراد کے جموں پہنچنے کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور معاملے کی مکمل جانچ کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا بھی امکان ہے۔ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ تمام لاشیں مکمل طور پر سڑ چکی ہیں۔ اس لئے وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی اس حوالے سے کچھ واضح ہو سکے گا۔ وہیں ایک ہی گھر سے دو خاندانوں کے اتنے زیادہ افراد کی لاشیں ملنے کے بعد مقامی لوگوں میں قتل کا خدشہ ہے۔










