آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کسی شہری کی موت نہیں ہوئی: پولیس
سرینگر//سابقہ ریاست کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد گزشتہ تین سالوں کے مقابلے کشمیر میں امن و امان کے واقعات میں تین سالوں میں 88 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے، پولیس نے جمعہ کو کہا۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق5 اگست 2016سے 4 اگست 2019 تک وادی میں امن و امان کے 3686واقعات ہوئے، جو کہ پولیس کے ذریعے شیئر کیے گئے ڈیٹا میں بتایا گیا ہے تاہم، 5 اگست 2019سے تین سالوں تک جب مرکز نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا – وادی میں صرف 438 ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے – جو کہ 88فیصد سے زیادہ کی کمی ہے پولیس نے کہا کہ5 اگست 2019سے پہلے کے تین سالوں میں کشمیر میں امن و امان کی صورتحال میں 124 شہری مارے گئے تھے، اس کے بعد سے کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا۔اسی طرح 5 اگست 2016 سے 4 اگست 2019 تک پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے 6 اہلکار ایسے حالات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اعداد و شمار کے مطابق اس کے بعد سے ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔پولیس نے بتایا کہ 5 اگست 2019سے پہلے کے تین سالوں میں 930 ملٹنسی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے اور اگلے تین سالوں میں یہ تعداد کم ہو کر 617 ہو گئی۔پولیس نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی سے تین سال قبل وادی میں دہشت گردی کے واقعات میں سیکورٹی فورسز کے 290 اہلکار مارے گئے تھے اور یہ تعداد کم ہو کر 174 رہ گئی تھی۔جہاں تک دہشت گردی کے حملوں جیسے دیگر واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا تعلق ہے، پولیس نے کہا کہ آئینی تبدیلیوں کے بعد تین سالوں میں یہ تعداد 191 سے کم ہو کر 110 رہ گئی۔










