muharram

محرم الحرام اور ہماری ذمہ داری

سبزار علی

تو نے صداقتوں کا نہ سودا کیا حسین
باطل کے دل میں رہ گئی حسرت خرید کی

محرم الحرام، متبرک، مقدس اور محترم مہینہ ہے جسے پروردگار عالم نے خود عظمت و حرمت اور امن والا قرار دیا ہے۔ دس محرم الحرام نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول سیدنا حسین ابن علی اور شہدائے کربلا کی شہادت اور ظلم و ستم کی وہ دردناک داستان ہے جسے ملتِ اسلامیہ قیامت تک فراموش نہیں کر سکے گی ۔ ان لازوال قربانیوں اور شہادتوں میں جرأت و شجاعت، تسلیم و رضا اور ہر حالت میں باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا وہ پیغام ہے جو ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کو جذبۂ جہاد اور شوق شہادت سے سرشار رکھ کر باطل قوتوں کی سرکوبی کا سبب بنتا رہے گا۔ محرم الحرام کی حرمت و عظمت، حب الٰہی اور حب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا لازمی تقاضا ہے کہ املاک کو بچانے ، مستحکم و مضبوط کرنے اور عملاً قرآن و سنت کے نفاذ کے لئے شہدائے اسلام صحابہ کرام اور اہل بیت اعظام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی اپنی انائوں کو ملک و ملت کی سا لمیت کی خاطر قربان کر دیں اور اسلام کی سربلندی کے لئے سب ایک ہو جائیں۔
دس محرم کوحضرت امام حسین علیہ سلام، ان کے خاندان اور ان کے جان نثاروں کی شہادت کا افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ سلام کا مقام و مرتبہ جنت کے سردار کا ہے۔ آپ کے مناقب اور محاسن لاتعداد ہیں آپ نے اپنی شہادت کے ذریعے عزیمت کی لازوال داستان رقم کی۔ آپ نے ایسا راستہ اختیار کیا جو آپ کو مقامِ شہادت پر لے گیا۔ آپ نے اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ آپ نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ واقعہ کربلا میں مسلمانوں کے لئے یہ درس ہے کہ ہَيْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّۃُ کہ ذلت ہم سے کوسوں دور ہے باطل کے سامنے سر نہ جھکائیں چاہے جان چلی جائے۔ آپ کے مناقب و محاسن لاتعداد ہیں۔ آپ متقی، محسن ، عبادت گزار اور علم دوست ہیں۔ آپ کو تلاش کرنے والوں نے ہمیشہ آپ کو علمی مجالس میں ہی پایا۔ آپ نے 25 سے زائد حج باپیادہ کیے۔ آپ نے اپنی شہادت کے ذریعے عزیمت کی لازوال داستان رقم کی۔ آپ نے رخصت کے عمومی راستہ کو نہ چنا بلکہ اس راستہ کو اختیار فرمایا جو آپ کو مقام شہادت پر لے گیا اور آپ کی شہادت کی خبر آپ کے بچپنے میں ہی عام ہو گئی تھی۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ یہ نواسہ رسول ایک دن مقام شہادت پر فائز ہوں گے۔ آپ نے اسلام کی خاطر، دین کو بلند رکھنے کی وجہ اور نااہل کے سامنے نہ جھکتے ہوئے استقامت کے وہ جوہر دکھائے کہ نہ صرف 71 نفوس کی شہادت پیش کی بلکہ اپنے آپ کو بھی شہادت کے اس سفر پر گامزن کیا۔
خون بہانے کا عمل انتہائی مشکل ہے لیکن جب اللہ کی محبت دل میں سما جائے۔ اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عشق موجزن ہو جائے تو یہ مشکل کام انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس مشکل کام کو انتہائی آسانی سے اس طرح سرانجام دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس قربانی کو قیامت تک کے لئے امر کر دیا۔ آپ کا نام زندہ ہو گیا لیکن آپ کے مدمقابل کا نام آج کوئی نہیں لیتا حتیٰ کہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کی باقیات کس مٹی میں ہیں۔ رہتی دنیا تک یہ قربانی مسلمانانِ عالم کو مہمیز دیتی رہے گی کہ عزیمت کے سفر پر ہی چلنا نام و کام کو دوام کر دیتا ہے۔
واقعہ کربلا ایک خوفناک حقیقت ہے اس واقعہ میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے 72جانثاران کے جانوں کے نذرانے پیش کرکے اپنے نانا کا دین ہمیشہ کے لئے بچا لیا اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ جھوٹ اور باطل کے سامنے ڈٹ جائو۔باطل کے سامنے سر مت جھکائو اور ایک سرکش اور اسلام مخالف شخص کی حکمرانی قبول نہ کرو حضرت امام حسین علیہ السلام نے یہی کیا، انہوں نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا اور جان کی قربانی دے دی اور ان کا یہ عمل تا قیامت زندہ جاوید رہے گا۔
نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت اسلام اور انسانیت کی بقا کیلئے تھی۔ آپ علیہ السلام کی جدوجہد دین محمدی کو یزیدی فکر اور فرسودہ نظام سیاست سے محفوظ رکھنے کیلئے تھی۔ امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد دین اسلام کیلئے، انسانی اقدار اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے تھی، نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد بلا تفریق مذہب و مسلک پوری انسانیت کیلئے تھی۔ محرم الحرام ہمیں سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ انکے مشن اور جدوجہد کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانا اور ظالم و جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا درس کربلا ہے۔
نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے گھرانے کی کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں شہادت ہوئی۔ خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مقدس جانوں کا نذرانہ دے کر دین اسلام کو بچا لیا۔ محرم الحرام عبادت، ایثار، تحمل اور برداشت کا مہینہ ہے۔ ماہ مقدس میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سب کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہو گا۔ امام حسین علیہ السلام نے آمریت اور ملوکیت کے خلاف جہاد کیا۔ محرم کا پیغام اتحاد بین المسلمین ہے۔ اُسوہ شبیری کو اپنی ذات اپنے خاندان اور سو سائٹی پر پوری طرح نافذرنا ہو گا۔
اب اگر اس میں ہم سب کامیاب ہونا ہے تو ہم سب کو مل کر اس کے لئے کام لڑنا ہو گا، ہماری اور آپ کی نظریں صرف عالم دین اور مولانا لوگوں پر ہمیشہ رہتی ہیں اور انگلی ہمیشہ انکی طرف رہتی اور خود کا دامن ہمیشہ جھاڑ لیتے ہے اور ہمیشہ ہمارا کہنا یہی ہوتا ہے کہ ارے میں کیا کرسکتا ہوں یہ تو مولانا لاگوں کا کام ہے، انہوں نے ممبر سنبھالا ہیں، قوم ان کے حوالے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں؟؟؟ بلکہ ہم لوگ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جب امام حسین علیہ السلام نے یزید پلید کے مد مقابل آ گئے تو انہوں نے بہت سارے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ انکے ہمراہ ہو جائے ، کچھ لوگ امام علیہ السلام کے ساتھ ہو گئے اور کچھ لوگوں نے کارواں میں شامل ہونے سے انکار کیا!! کچھ لوگوں نے تو گھر سے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا اور بعد میں امام علیہ السلام کے نام پر بہت جنگیں لڑیں اور لوگوں کو جمع کرکے حسین علیہ السلام کے مبارک نام پر لوگوں کے بیچوں بیچ جا کر امام علیہ السلام کی اسیری اور پیاس کی شدت بیان کرنے لگے!!۔ اب سمجھنا ہمیں اور آپ کو ہے کہ اگر کوفیوں نے امام علیہ السلام کو دھوکہ نہ دیا ہوتا تو آج ہمیں بات بات پر کوفیوں اور شامیوں کی مثال سننے کو نہیں ملتی۔ کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کہی ہماری بھی مثال ایسی نہ ہو!!۔
آج کے اس پر آشوب زمانے میں حسینیوں کی سخت ضرورت ہے۔ چاہئے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو یا کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ ہو ؟؟۔ ہمیں دنیا کمان سنبھالنی ہو گی، دنیا فتنوں سے بھری پڑی ہے، قتل و غارت عام ہے، ڈکیتی، بے عزتی، غریبوں کو دبانا اور انسانی حقوق کی پامالی عام ہے۔ یہاں ہر حسینی (انسان) کی زمہ داری ہے کہ ہر اس ظالم کی مخالفت کی جا جو بھی اپنے ظلم کی تیغ سے لوگوں کو چیر پھاڑتا ہو گا۔ یزید پلید کی مخالفت ہر کوئی کرتا ہے اور انہیں ہر کوئ کوستا ہے۔ ہمیں چاہی کہ آج کے جو زندہ یزید ہے اسکی صرف ملامت ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف پر احتجاج ہو۔

کثرت سے جیت سکتا نہیں ہے کوئی بھی جنگ

sabzargreen@gmail.com
+916005875163