’’سولر سٹی مشن ‘‘ کے تحت جے اے کے اِی ڈی اے کی طرف سے رہائشی عمارتوں پر 200میگاواٹ کے گرڈ سے بندھے ہوئے روف ٹاپ سولر پاور پلانٹ لگائے جائیں گے
سری نگر// جموں وکشمیریوٹی صاف توانائی پیدا کرنے کے مشن پر ہے جس کا مقصد توانائی کے روایتی ذرائع پر اَنحصار کم کرنا اور جموںوکشمیر کو اَپنی توانائی کی ضروریات میں خود کفالت حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے ۔جموں وکشمیر اِس سنگ میل کو حاصل کرنے کی خاطر رہائشی سیکٹر کے لئے مرکزی حکومت کی گرڈ سے منسلک روف ٹاپ سولر سکیم مرحلہ دوم کو عملانے کے لئے کام جاری ہے تاکہ شہر کی بجلی کی ضروریات شمسی توانائی سے پوری کی جائیں۔پروجیکٹ کے تحت جموںوکشمیر اَنرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے اِی ڈی اے ) کی جانب سے اَپنے ’’ سولر سٹی مشن ‘‘ کے تحت جموںشہر میں 50,000 رہائشی عمارتوں پر 200 میگاواٹ کے گرڈ سے منسلک روف ٹاپ سولر اَنرجی پلانٹ لگائے جائیں گے جس کی تخمینہ لاگت 1,040 کروڑ روپے ہے ۔ یہ منصوبہ مارچ 2024ء تک مکمل ہوجائے گا او راِس کی لائف ٹائم 25 سال ہوگی۔روف ٹاپ سولر پروگرام رہائشی مکانات پر 58,739 روپے ،53,995 روپے ،52,594روپے اور 51,309 روپے زمرہ اے( ایک کلو واٹ تک ) ،زمرہ بی ( ایک کلوواٹ سے دو کلو واٹ تک)،زمرہ سی ( دو کلو واٹ سے تین کلو واٹ تک) اور زمرہ ڈی ( تین کلو واٹ سے دس کلو واٹ تک)بالترتیب کی لاگت سے شمسی توانائی کے پینلوں کوسبسڈی پر تنصیب فراہم کرے گا۔سینٹرل سیکٹر سکیم پروجیکٹ لاگت کا 40فیصدسینٹرل سبسڈی جزوفراہم کرتی ہے اور تین کلو واٹ صلاحیت سے کم شمسی توانائی کے پینلوں کی تنصیب کے لئے پروجیکٹ لاگت کا 25فیصد سٹیٹ سبسڈی جزو فراہم کرتی ہے جس میں مرکزی سبسڈی کا حصہ 20فیصد پربرقرار ہے ۔ سبسڈی ڈی بی ٹی موڈ کے ذریعے مستفیدین کو فراہم کی جاتی ہے ۔ایک آفیسر نے بتایا کہ روف ٹاپ سولر پاور پلانٹس کو نیٹ میٹرنگ کی بنیاد پر گرڈ سے جوڑا جائے گا ۔ فائدہ اُٹھانے والوں کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری تقریباً 4برس کی ادائیگی کی مدت کے ساتھ توانائی کی بچت کے حساب سے 25فیصد سالانہ کی شرح سے وصول کی جائے گی۔منصوبے کی عمل آوری سے جموںوکشمیر کو سالانہ تقریباً 280 ملین یونٹ توانائی کی پیداوار سے فائدہ پہنچے گا جس سے تقریباً 5.44 ملین ٹن کار بن کے اِخراج میں کمی آئے گی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ 224ملین یونٹس کے اِنٹر سٹیٹ ٹرانسمیشن کے نقصانات کی وجہ سے بچت سے حاصل ہونے والے فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔ روف ٹاپ سولر پروگرام سے شمسی توانائی کی پیداوار جموںوکشمیر میں توانائی کی ضررویات کو پورا کرنے میں بھی مدد کرے گی جبکہ ڈِسکامز ( ڈی آئی ایس سی او ایم ایس ) کو قابلِ تجدید خریداری کی ذمہ د اری ( آر پی او ) کے 10.5فیصد اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کرے گی جیسا کہ مرکزی حکومت نے مقرر کیا ہے ۔یہ منصوبہ مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا ۔ روزگار کے تخمینوں کی بنیاد پر یہ حساب لگایا گیا کہ ایک میگاواٹ کا روف ٹاپ سولر پی وِی پروجیکٹ کے 25برس لائف ٹائم کے دوران کل 40کل وقتی مساوی ( ایف ٹی اِی ) ملازمتیں پیدا کرتا ہے جس میں کاروباری ترقی ، ڈیزائن کے لئے ہنر مند اَفراد شامل ہیں۔سیلز ، پروکیورمنٹ اور پروجیکٹ مینجمنٹ ، روف ٹاپ کے پی وِی سسٹم کی تعمیر او رتنصیب کے لئے ایک وقت ملازمتیں اور پلانٹ کی صفائی کی سرگرمیوں کے لئے سالانہ غیر ہنر مند وسائل درکار ہیں۔سکیم عملانے والی ایجنسی جے اے کے اِی ڈی اے نصب کئے جانے والے مواد کے معیار کی باقاعدہ نگرانی اور تصدیق فراہم کرے گا ۔جموںوکشمیر میں شمسی توانائی کی اچھی صلاحیت ہے اور قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت اِس کی بجلی کی ضرورت کے ایک حصے کو پور ا کرنے میں مدد کرے گی ۔ پی ایم کُسم سکیم کے نئے بجٹ کے تحت 2022-23 ء میں 375 سولر واٹر پمپ لگائے جائیں گے جس سے 47,159 لوگوں کو بجلی کا فائدہ ، 18,750 لوگوں کو براہِ راست زراعت کا فائدہ اور 1,60,000 نفوس کو بالواسطہ زرعی فائدہ ہوگا۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سانبہ کے گائوں پلی میں 500 کلو واٹ کے سولر پاور پلانٹ کا اِفتتاح کیا جو اسے ہندوستان کی پہلی ’’کاربن نیوٹرل پنچایت ‘‘ بنائے گا۔










