ہندوارہ میں ایک تحصیلدار کو2 تحصیلوں کا چارچ

ہندوارہ// محکمہ ریونیو میں افسران کی عدم دستیابی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ تحصیلدار ہندوارہ کو دو تحصیل کی چارجزس دی گئی تحصیل ہندوارہ اور تحصیل زچلڈرہ اسی طرح تحصیلدار لنگیٹ اور قلم آباد میں بھی ہی حال ہے۔جے کے این ایس نامہ نگارطارق راتھر کے مطابق سب ضلع ہندوارہ میں9 بلاک میں صرف 2 بی ڈی او بلاک ڈیولپمنٹ افسر کام کررہے ہیں جبکہ اگر دیکھا جائے ان نو بلاکس کیلئے 9بی ڈی او کا ہونا لازمی ہے لیکن سب ضلع ہندوارہ میں صرف2 بی ڈی او 9بلاکس چلارہے ہیں ۔ دو بلاک ڈیولپمنٹ افسیرز کو 9بلاکو کا چارچ دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو کافی مشکلاتوں کا سامنا کرنا پڑرہا۔ریونیو محکمہ محکمہ میں افسران کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام لوگ پریشانی کے شکار ہو رہے ہیں۔ ایک تحصیلدار کو دو تحصیلوں کا چارج دیا گیا ہے جس وجہ سے ان پر زیادہ بوجھ بڑھ جاتا ہے جسکی وجہ سے عام لوگوں کو خاص طور پر اس موقع پر نئے تقرری کرنے والوں / طلباء کو زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ کلاس IV میں دستاویز کی تبدیلی کے مختلف سرٹیفکیٹس محکمہ ریونیو سے حاصل کئے جاتے ہیں جیسے کہ غیر ملازمتی سرٹیفکیٹ۔ ڈومسائل وغیرہ کو حاصل کرنے میں طلبا کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دریں اثنا ء ماور کے ایک باشندے نے بتایا کہ یتیم سرٹیفکیٹ، آر بی اے، ایس سی۔ ایس ٹی وغیرہ کو مکمل ہونے میں کئی کئی دن لگتے ہیں کیونکہ ایک تحصیلدار کو ایک سے زیادہ تحصیلوں کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے ہرل کے ایک اورشخص بشیر احمد نے بتایا اگرچہ محکمہ کے پاس تربیت یافتہ افسران کی کافی تعداد موجود ہے، لیکن انہیں فیلڈ میں ہونے کے بجائے Div Com’s/FC’s کے اختیار میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے ایل جی ایڈمنسٹریشن سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کی طرف دھیان دیں کیونکہ فیلڈ میں تحصیلداروں کی کمی کی وجہ سے عام لوگ بری طرح ہر کام سے متاثر ہورہے ہیں ایک سرکاری زرائع سیمعلوم ہوا کہ ہندوارہ اورقلم آباد لنگیٹ تحصیل میں تحصیلدار کی کرسیاں خالی ہے جس وجہ سے ہندوارہ تحصیلدار کو دو چارچ دی گئی ہے جبکہ باقی تحصیلوں کایہی حال دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ہندوارہ میں تحصیلداروں کی عدم دستیابی نہیں بلکہ ہندوارہ کے 9بلاکوں میں صرف دو بلاک آفیسر بی ڈی او کو ان نو بلاکس کا چارچ دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ ہندوارہ تحصیل میں تحصیلداروں کی عدم دستیابی اور دیگر محکموں میں افسران کی عدم دستیابی سے عام لوگوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گورنر انتظامیہ اس معاملے کو زاتی تو لیکر اس مسلے کو حل کرنے میں مدخلت کریں تاکہ لوگوں کے پرہشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔