18جنوری سے بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی

18جنوری سے بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی

سرینگر//برفباری اور بارشوں کی پیشگوئی کے بیچ وادی میں شبانہ درجہ حرارت میں کچھ حد تک بہتری کے نتیجے میں لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق جموں وکشمیر میں تازہ مغربی ہوائیں داخل ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں 18جنوری تک موسم ایک بار پھر کروٹ بدل سکتا ہے۔جس دوران وادی میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری اور بارشیں ہونے کا امکان ہے ۔ سی این آئی کے مطابق چلہ کلان کے سخت تیور کے بیچ جموں کشمیر اور لداخ میںشدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔اسی دوران محکمہ موسمیات کی برف و باراں کے ایک اور مرحلے کی پیش گوئی کے بیچ وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت میں بہتری واقع ہونے سے لوگوں کو ٹھٹھرتی سردی سے قدرے راحت نصیب ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے کہاکہ جموں وکشمیر میں تازہ مغربی ہوائیں داخل ہو سکتی ہیں جس سے 18جنوری تک موسم ایک بار پھر کروٹ بدل سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس دوران وادی میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری اور بارشیں متوقع ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں شبانہ درجہ حرارت منفی 1.2ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.5ریکارڈ ہوا تھا۔ساتھ ہی مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.5 ڈگری سینٹی گریڈ درج ہوا تھا۔وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 11.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سرحدی ضلع کپواڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.0ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔گیٹ آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔لداخ یونین ٹریٹری کے قصبہ دراس جو سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 27.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع لہیہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 15.2ڈگری سینٹی گریڈ اور ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 18.6ڈگری سینتی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر سردی کی شدید لہر کے بعد اونی لباس اور گرم ملبوسات کی طلب بڑھ گئی ہے۔ شدید ترین سردی کی وجہ سے مارکیٹوں اور بازاروں میں شہری آگ جلا کر سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سردی بڑھتے ہی گیس اور لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ لداخ اور لہیہ میں شدید سردی اور ناکافی سہولیات نے شہریوں کے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔