جموںوکشمیر کے رئیل اسٹیٹ، بنیادی ڈھانچہ ، سیاحت ، صحت دیکھ ریکھ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی
دبئی//جموں وکشمیر یونین ٹیریٹری ( جے اینڈ کے ) نے ایکسپو 2020 دبئی میں عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ 6 معاہدوں پر دستخط کئے ہیں تاکہ جموںوکشمیر یوٹی کے رئیل اسٹیٹ ، بنیادی ڈھانچہ ، سیاحت ، صحت دیکھ ریکھ ، اَفرادی قوت کے روزگار کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جاسکے۔ جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کل دبئی میں سرمایہ کاروں کے اِجلاس سے خطاب کیا جس میں متحدہ عرب اَمارات ( یو اے اِی ) کے معروف کاروباری رہنمائوں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔منوج سِنہا نے کہا ،’’ جموںو کشمیر یوٹی کاروبار ی منزل سے مواقع اور سرمایہ کاری کی سرزمین میں منتقل ہو گیا ہے ۔یوٹی کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 45,000 کروڑ روپے اور اِضافی 18,300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں اور اِس خطے میں بے پناہ مواقع اور کاروبار صلاحیت موجود ہے۔‘‘جموںوکشمیر نے بالترتیب المایا گروپ ،ایم اے ٹی یو انوسٹمنٹ ایل ایل سی ، جی ایل ایمپلائمنٹ بروکریج ایل ایل سی ، سنچری فائنانشل اور نون اِی۔ کامرس ،1 ایل او ایل کے درمیان پرائیویٹ وویزمگنا لمٹیڈ ایما ر گروپ اور لولو اِنٹرنیشنل کے ساتھ پانچ مفاہمت ناموں پر دستخط کئے ہیں۔منوج سِنہا نے ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی اِی او سلطان احمد بن سلیم سے بھی ملاقات کی تاکہ جموںوکشمیر حکومت اور ڈی پی ورلڈ کے درمیان تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اِن سرکردہ سرمایہ کاروں کے ساتھ آنے والے مواقع کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ جموںوکشمیر عالمی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لئے ساز گار ماحول فراہم کرنے کے لئے اَنتھک محنت کر رہا ہے۔کاروبار نقطہ نظر سے جے اینڈ کے صنعتوں کو آسانی سے دستیاب وافر وسائل کے ساتھ مقابلہ کرنے ، درست کرنے اور تعاون کرنے کا موقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ قدیم قوانین کو ختم کیا گیاہے اورزائد اَز 890 مرکزی قوانین کو لاگو کیا گیا ہے جو سماجی و اقتصادی ترقی کے کلیدی محرک ہیں۔ہندوستان اور متحدہ عرب اَمارات کے درمیان تعاون کے اِمکانات کی وضاحت کرتے ہوئے متحدہ عرب اَمارات کے سفارت خانے کے سفیر ڈاکٹر احمد عبدالرحمٰن البنا نے کہا ، ’’ہندوستان متحدہ عرب اَمارات کے لئے دوسرا سب بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور یو اے اِی ہندوستان کے لئے تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ہمارے کل غیر ملکی تجارت کے اعدادو شمار 2019-2020ء میں تقریباً 60 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئے ۔متحدہ عرب اَمارات اور ہندوستان کے درمیان جامع اِقتصادی شراکت داری کا معاہدہ ( سی اِی پی اے ) ہندوستان اور متحدہ عرب اَمارات کے درمیان تعلقات کو گہر اکرنے میں اہم ہوگا۔ہم امید کر تے ہیں کہ سی ای پی اے آنے والے 5 سے 8 برسوں میں ہماری باہمی تجارت کو 60 بلین امریکی ڈالر سے بڑھا کر 100 بلین ڈالر تک لے جائے گا۔سنجے سدھیر یواے ای میں ہندوستان کے سفیر نے کل سرمایہ کاروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’جب سے حکومت ہند نے 2019 میں تاریخی انتظامی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جموںو کشمیریوٹی اقتصادی اور سماجی ترقی کے ماڈل کے طور پر ہندوستانی ریاستوں کے درمیان کامیابی کی تازہ ترین کہانی بن گیا ہے۔ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ہیں اور جلد ہی سی اِی پی اے پر دستخط کئے جائیں گے، جو یقینی طور پر ہماری اقتصادی مصروفیات کو مکمل طور پر ایک بہت ہی مختلف سمت میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے بھی جاری جموں و کشمیر ہفتہ ( 3سے 13جنوری تک) کے دوران ایکسپو 2020 دبئی میں انڈیا پویلین کا دورہ کیا۔جے اینڈ کے پویلین کا اِفتتاح پرنسپل سیکرٹری صنعت و حرفت رنجن پرکاش ٹھاکرنے 3 ؍جنوری کو دبئی میں ہندوستان کے قونصل جنرل ڈاکٹر امان پوری اور ایکسپو 2020 دبئی میں ہندوستان کے ڈپٹی کمشنر جنرل کے ساتھ کیا۔انڈیا پویلین میں انویسٹر سمٹ اور جے اینڈ کے ویک کے علاوہ، دو روزہ بائیر ۔ سیلر میٹ کا بھی افتتاح کیا گیا جس کی میزبانی قونصلیٹ جنرل آف انڈیا، دبئی نے انویسٹ انڈیا کے تعاون سے کی تھی۔










