سرینگر / /سماج میں جسمانی طور ناخیز افراد کی تعداد کافی ہے جن کی زندگی اس مہنگائی کے دور میں کافی مشکل بن گئی ہے ۔اس ضمن میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ناتوان افراد نے بتایا کہ وہ اس وقت مشکل سے زندگی بسر کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی ناتوانوں کو اگر چہ ماہانہ مشاہرہ فراہم کیا جارہا ہے لیکن مہنگائی اور ہر سطح پر گراں بازاری کی وجہ سے ایک ہزار روپے کی رقم نہ ہونے کے برابر ثابت ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک شخص کو کم سے کم ایک یا دو سو سے دو سو روپیہ روزانہ بنیادوں پر خرچ ہوتا ہے تو ایک ہزار سے کس طرح ان کا گذارا چل سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جسمانی طور ناخیز افراد جن میں بہرے گونگے یا اندھے ہوتے ہیں ان کے سننے ،بولنے یا دیکھنے کیلئے جدید طرز کے آلات دستیاب ہیں لیکن ان کے پاس ان کو حاصل کرنے کی سکت نہیں ہے یا علاج ومعالجہ کرنے کی طاقت نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ سرکار ان ناخیز افراد کو اس طرح کی مشینری فراہم کرکے ان کو مشکل زندگی سے نکال دیں ۔انہوں نے کہا کہ ناتوان افراد جو کم از کم اپنا روز گار کمانے کا حس یا شعور رکھتے ہیں یا ٹیکنکل ہینڈ بنے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کیلئے بوجھ بننے کے بجائے خود روز گار کمائے ۔لیکن سرکار کی جانب سے ان کی کوئی امداد نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کیلئے مخصوص اسکمیں ترتیب دی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان میں ایسے ناتوان افراد ؎بھی ہیں جو مختلف قسم بشمول الیکٹرانک،پالمبری ،سیلائی کے کام میں ماہر ہوئے ہیں لیکن وہ جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے دوسروں کے محتاج ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کو موٹر سائیکل یا سکوٹی فراہم کی جاتی ہے تو وہ بہ آسانی اپنا روز کام کماسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کئی سال قبل انہوں نے سوشل ویلفیئر کے دفاتر میں فارم جمع کرائے ہیں اور کافی عرصہ سے سکوٹی یا دیگر آلات فراہم ہونے کے منتظر ہیں لیکن سرکار عدم توجہی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے لفٹنٹ گورنر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ماہانہ مشاہرے میں اضافہ کیا جائے اور ناخیز افراد کو سکوٹی ودیگر ضروری آلات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائے جائیں تاکہ یہ ناتوان افراد اپنے سماج کسی بھی فرد پر بوجھ نہ جائے گا بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاکر اپنی زندگی بسر کرسکیں گے ۔










