سری نگر اورگاندربل میں2غیرمقامی باشندوں کی پُراسرارموت

تھمنکوٹ کوکرناگ میں جواں سالہ خاتون کی پُراسرار موت

اننت ناگ//جنوبی ضلع اننت ناگ کے تھمن کوٹ کپرن کوکرناگ علاقہ میں منگل کی شام 4ماہ کی شیرخوار بچی کی جواں سالہ ماں کی سسرال میں پُراسرارحالت میں موت واقعہ ہوئی ۔غسل دینے کے دوران متوفی خاتون کے گلے پرنشانات دیکھنے کے بعدپولیس کومطلع کیاگیا،اورپولیس تھانہ کوکرناگ نے خاتون کی نعش کواپنی تحویل میں لینے کے بعدجی ایم سی کالج اسپتال اننت ناگ میں نعش کاپوسٹ مارٹم کرایا،جسکے بعدخاتون کی میت آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے میکے والوںکے سپرد کی گئی ۔پولیس نے ابتدائی طورپرمعاملہ درج کرکے مزیدتحقیقات شروع کردی۔جے کے این ایس کومعلوم ہواکہ تقریباً15ماہ قبل آرہ بل کوکرناگ کی رہنے والی ایک دوشیزہ ماہ جبینہ کی شادی تھمن کوٹ کپرن کوکرناگ کے رہنے والے رئوف احمدشاہ کیساتھ ہوئی تھی ۔متوفی خاتون کے میکے والوںنے بتایاکہ منگل کی شام تقریباًپانچ بچے ماہ جبینہ کے سسرال والوںنے اُنھیں فون کرکے مطلع کیاکہ ماہ جبینہ کودل کادورہ پڑاہے ۔انہوںنے بتایاکہ ہم جب وہاں پہنچے توہماری بچی انتقال کرچکی تھی ۔متوفی خاتون کے میکے والوںنے بتایاکہ اسکے بعدآخری رسومات کی تیاری شروع کردی گئی ،تاہم غسل دینے کے دوران کچھ خواتین نے ماہ جبینہ کے گلے پرکچھ نشانات دیکھے اوراس سے یہ شکوک وشبہات پیداہوئے کہ اسکی موت قدرتی طورپرنہیں ہوئی ہے بلکہ اس کوشادی اذیت دیکر موت کی نیندسلادیاگیاہے ۔انہوں نے بتایاکہ گلے پرنشانات دیکھنے کے بعدہم نے پولیس کومطلع کیااورپولیس تھانہ کوکرناگ سے ایک ٹیم یہاں پہنچی ،اورپولیس کی ٹیم نے نعش کواپنی تحویل میں لیکر اسے ضلع اسپتال اننت ناگ منتقل کیا،جہاں بدھ کی صبح ماہ جبینہ کی نعش کاپوسٹ مارٹم کرایاگیا۔متوفی خاتون کے میکے والوںنے بتایاکہ طبی وقانونی لوازمات کومکمل کرنے کے بعدپولیس نے نعش ہمارے سپردکردی اورہم نے ماہ جبینہ کی میت کو آرہ بل کوکرناگ پہنچایا،جہاں اسکی آخری رسومات ہم نے انجام دیں ۔انہوںنے بتایاکہ ہم اسبات پرحیران ہیں کہ سسرال والوں میں سے کوئی بھی شخص یہاں نہیں آیااورنہ آخری رسومات میں شرکت کی ۔اُدھر ایس ایچ ائو پولیس تھانہ کوکرناگ تجمل حسین نے بتایاکہ خاتون کی نعش کاپوسٹ مارٹم کرانے کے بعدتھانے میں اس واقعے کی مناسبت سے سی آرپی سی 174کے تحت معاملہ درج کیاگیااورتحقیقات شروع کردی گئی ۔انہوںنے کہاکہ پولیس نے فوت ہوئے خاتون کے سسرال والوں کے بیانات قلمبند کئے ہیں تاہم ابھی کسی کوحراست میں نہیں لیاگیا۔ایس ایچ ائوموصوف نے بتایاکہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعدہی اسبات کاخلاصہ ہوجائے گاکہ خاتون کی موت کیسے واقعے ہوئی اوراسکے تناظرمیں پولیس مزیدقانونی کارروائی عمل میں لائے گی ۔