سری نگر//محکمہ موسمیات کے علاقائی ڈائریکٹر سونم لوٹس نے بدھ کے روز یہ واضح کیاکہ 23اور24دسمبرکوبھاری برف باری ہونے کاکوئی امکان نہیں ہے تاہم انہوںنے 27او ر28دسمبر کوبالائی مقامات پراچھی اورمیدانی علاقوںمیں ہلکی برف باری کی پیش گوئی کردی ۔ماہرموسمیات سونم لوٹس نے ساتھ کہاکہ اگلے ایک ہفتے جموں وکشمیرمیں بادل چھائے رہیں گے اوردن کے درجہ حرارت میں کمی واقعہ ہوگی ۔تاہم انہوںنے کہاکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال ماہ دسمبرمیں سردی کی شدت قدرے کم ریکارڈکی گئی ۔جے کے این ایس کے مطابق سری نگرمیں قائم محکمہ موسمیات کے علاقائی دفترکے سربراہ سونم لوٹس نے مغربی ہوائوں کی غیرمعمولی نقل وحرکت کی وجہ سے 23 اور 24 دسمبر کے دوران کئی مقامات پر ہلکی بارش اور برف باری اورپھر27و28دسمبرکے دوران وادی کشمیرکے بالائی علاقوںمیں اچھی اورمیدانی علاقوںمیں ہلکی برف باری کی پیش گوئی کی ۔انہوںنے کہاکہ23اور24دسمبرکوبھاری برف باری ہونے کاکوئی امکان نہیں ہے۔تاہم بقول موصوف 27او ر28دسمبر کوبالائی مقامات پراچھی اورمیدانی علاقوںمیں 2انچ تک برف باری ہوسکتی ہے ۔سونم لوٹس کاکہناتھاکہ مغربی ہوائوں کے زیر اثر، 23 سے24دسمبر دوپہر کے درمیان جموں وکشمیرمیں کچھ ایک مقامات پر ہلکی بارش اوربرفباری ہوسکتی ہے۔انہوںنے تاہم کہا کہ بڑے پیمانے پر برفباری کا بھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے علاقائی ڈائریکٹر سونم لوٹس نے بتایا کہ ایک بار پھرمغربی ہوائیں26دسمبر کی شام سے جموں و کشمیر کو متاثر کریں گی ،جن کی وجہ سے کشمیر کے بالائی اور میدانی علاقوں میں27و28دسمبرکے دوران زیادہ تر مقامات پربالترتیب اچھی اور ہلکی برف باری ہو سکتی ہے۔سونم لوٹس نے بتایاکہ گزشتہ برس کے مقابلے میں امسال جموں وکشمیراورلداخ میں سردی کی شدت قدرے کم ہے ۔انہوںنے بتایاکہ سال2020میں19دسمبر کوسری نگرمیں رات کاکم سے کم درجہ حرارت منفی6.6ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈہوا تھا جبکہ رواں سال 19دسمبر کوسری نگرمیں شبانہ درجہ حرارت منفی6ڈگری سینٹی گریڈ درج کیاگیا۔سونم لوٹس نے تاہم کیاکہ 22دسمبر سے ایک ہفتے تک جموں وکشمیر اورلداخ میں بادل چھائے رہیں گے ،جس وجہ سے دن کے درجہ حرارت میں کمی آسکتی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے علاقائی ڈائریکٹر سونم لوٹس نے واضح کیاکہ محکمہ موسمیات کی موسمیاتی تغیروتبدل پرنظر ہے اوریہ بھی ہوسکتاہے کہ 27او ر28دسمبر کوکشمیرکے بالائی مقامات پبھاری اورمیدانی علاقوںمیں درمیانہ درجے کی برف باری ہو۔










