Pr. Commissioner Income Tax

پرنسپل کمشنر اِنکم ٹیکس نے جموںوکشمیر کے اَپنے اَفسران کو 31؍ دسمبر 2021ء تک

6ماہ سے زائد عرصے سے زیر اِلتوأ ٹیکس دہندگان کی تمام شکایات کو حل کرنے کی ہدایت دی

سری نگر//جموںوکشمیر اور لداخ یوٹیوں میں رَسائی پروگراموں کے اِختتام پر 11؍ دسمبر 2021ء کو ٹیکس دہندگان کی بیداری مہم ’’ ملاقات‘‘ سری نگر میں ٹی آر سی میٹنگ ہال میں چلائی گئی۔اِس کارروائی کی صدارت پرنسپل کمشنر اِنکم ٹیکس سری نگر ایم پی سنگھ نے کی۔اِس موقعہ پر جوائنٹ کمشنر اِنکم ٹیکس راجیو گبگوترا، اسسٹنٹ کمشنر اِنکم ٹکس ابھیشری، ڈپٹی کمشنر سی جی ایس ٹی دانش گل اور ایڈیشنل کمشنر عابد ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں محکمہ اِنکم ٹیکس کے دیگر اَفسران کے علاوہ سری انوج یادو، سری ریاض بٹ ،سری گلزار ملک اورسری الطاف ،او ایس بھی موجود تھے۔ محکمہ اِنکم ٹیکس اور جی ایس ٹی محکمہ اَفسران نے ٹیکس دہندگان ، تاجر برداری ، چھوٹے تاجروں اور منظم تجارتی آرگنائزیشنوں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ ہوٹل اِنڈسٹریز ، ٹریول ایجنٹس ایسو سی ایشنوں ، کیمسٹ ایسو سیایشن ، ہینڈی کرافٹس ، کارپٹ اِنڈسٹری ، سی اے اور ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔اِس پروگرام کا مقصد شراکت داروں سے فیڈ بیک اور ٹھوس تجاویز حاصل کرلینا اور ان کی شکایات سننے کے علاوہ ٹیکس دہندگان میں اِنکم ٹیکس اور جی ایس ٹی کے حوالے سے دیگر مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ ایم پی سنگھ نے سری نگر کے مقامی لوگوں پر زور دیا کہ وہ مستعدی سے اَپنے ٹیکس اَدا کریں اور بغیر کسی خوف کے ٹیکس کے دائرے میں آئیں کیوں کہ اِنکم ٹیکس اور سی جی ایس ٹی دونوں محکموں میں گذشتہ کچھ برسوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ سری نگر میں نئے اِفتتاح شدہ دفتر کے قیام کا مقصد ایک سینئر سطح کے آفیسر کے ساتھ پرنسپل کمشنر اِنکم ٹیکس کے پورے چارج کی نگرانی کرنا ہے ۔ اس لئے محکمہ کو جموںوکشمیر کے لوگوں کے لئے مزید قابل رسائی بنایاجائے۔اُنہوں نے ٹیکس دہندگان سے مزیدکہا کہ اگر ان کی کوئی شکایات 6 ماہ سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں تو ان کے افسران 31؍ دسمبر 2021ء تک انہیں حل کر یںگے۔ انہوں نے اپنے تمام افسران کو ہدایت دی کہ وہ اے ایس کے (آیکار سیوا) میں رکھے گئے اوراِنکم ٹیکس آفیس کا سینٹرروزانہ کی بنیاد پر صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بجے تک تمام سوالات کے حل کی سہولیت فراہم کریں۔اِس کے علاوہ لوگوں سے ٹیکس مسائل اور مرکزی بجٹ سے ان کی خواہشات کے بارے میں اَفسران کی رائے لی گئی ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری کے صدر شیخ عاشق نے کشمیر سے برآمدات پر توجہ بڑھانے ، کشمیر کی قالین سازی کی صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے ایک کارپٹ وِلیج کے قیام، سیاحتی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کے لئے ٹیکس میں چھوٹ،ان لوگوں کے لئے ریلیف کی درخواست کی۔شوکت چودھری نے سری نگر کی سیاحتی صنعتوں کے لئے صنعتی برقی کنکشن شروع کرنے کی ضرورت کے بارے میں بات کی۔قادر جمینی نے مقامی ایم ایس ایم ایز سے خریداری کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔سرینگر کے کیمسٹ اور ڈرگسٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے فیاض احمد نے درخواست کی کہ وادی میں اس طرح کے بیداری اور استفساری پروگرام بڑے پیمانے پر جاری رکھے جائیں تاکہ کشمیر کے کواہشمند مقامی لوگوں کو تعلیم اور رہنمائی فراہم کی جاسکے کہ وہ کس طرح قوم کے ایماندار اور قابل فخر ٹیکس دہندگان بن سکتے ہیں۔مجموعی طور پر یہ ایک اِنتہائی تعمیری اور نتیجہ خیز استفساری اور تبادلہ خیال سیشن تھا جہاں سری نگر کے مقامی لوگوں نے اَپنی تجاویز اور آرأ پیش کیں۔