chief engineer Aijaz ahmad dar

بجلی کا غلط استعمال جاری، ہم کٹوتی کرنے پر مجبور :چیف انجینئر محکمہ بجلی کشمیر

سری نگر//محکمہ بجلی نے واضح کیاہے کہ2800میگاواٹ کے برعکس وہ صرف 1750 میگاواٹ ہی بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے، لہٰذا بھر پور کٹوتی کے بغیر اور کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق چیف انجینئر محکمہ بجلی کشمیراعجاز احمد ڈار کے مطابق ’’ہم نے کچھ فیڈرز کے تحت آنے والے علاقوں میں بجلی کٹوتی شیڈول کا اعلان کیا ہے، جہاں ڈیمانڈ،مانگ یاطلب کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ چیف انجینئرموصوف نے ایک میڈیاادارے کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ توانائی فراہم کرنے کے باوجود بجلی کا غلط استعمال جاری رہنے کی وجہ سے ہم بجلی کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہماری غیر محدود طلب 2800میگاواٹ سے زیادہ ہے جب کہ ہم 1750 میگاواٹ کے قریب بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔چیف انجینئر محکمہ بجلی کشمیراعجاز احمد ڈارنے کہا کہ سبھی اضلاع کے سپر انٹنڈنٹ انجینئر الگ الگ شیڈول جاری کر رہے ہیں۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ بار بار لوگوں سے اپیل کی گئی کہ اگر بجلی کا زیادہ استعمال عقلمندی سے کریں گے تو زیادہ کٹوتی نہیںہوگی۔ چیف انجینئرموصوف نے مزید کہا کہ کٹوتی کے اوقات کا انحصار سپلائی پرہے۔محکمہ بجلی کے ایک اعلیٰ انجینئرنے بتایا کہ اس بار بجلی کی صلاحیت میں قریب 300میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی بجلی کی اوئورلوڈنگ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں ترسیلی وتقسیم کاری صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پہلی بار 1750 میگاواٹ کا چوٹی کا لوڈ فراہم کیا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ڈویڑن کے صارفین کیساتھ ہمارا لوڈ کا معاہدہ860 میگاواٹ بجلی کے لئے ہے جبکہ ہم 1700میگاواٹ فراہم کر رہے ہیں اور سردیوں میں غیر محدود طلب2800 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔