جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کو دھچکا

جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کو دھچکا

کئی سینئر لیڈران مستعفی،مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیںہے:آزاد

سرینگر//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کو اس وقت زور دار دھچکا لگا جب پارٹی کے کئی سینئر لیڈران اور سابق وزرا اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔اور اپنا استعفیٰ سونیا اور راہل گاندھی روانہ کیا ہے ۔اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر اعلیٰ جموںو کشمیر غلام نبی آزاد نے بتایا مجھے اس حوالے سے کوئی جانکاری نہیں ہے ۔ انہوں نے حد بندی کمیشن پر بتایا اگر سیاسی مداخلت سے الگ کی جائے تو یوٹی کو فائدہ ہوگا ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق میڈیا رپوٹس کے مطابق پارٹی کانگریس لیڈروں، جنہیں سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کا وفا دار سمجھا جاتا ہے، نے جے کے پی سی سی کے صدر غلام احمد میر کی طرف سے انہیں پارٹی امور میں مداخلت کرنے کے لئے موقع فراہم کرنے کا موقع نہ دینے کے خلاف احتجاجی طور پر استعفیٰ دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مستعفی ہونے والے لیڈروں میں جموں و کشمیر کے دونوں صوبوں سے تعلق رکھنے والے لیڈران شامل ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان لیڈروں جن میں سابق وزرا و ارکان اسمبلی شامل ہیں ، نے اپنا مشترکہ استعفیٰ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی صدر سونیا گاندھی اور جنرل سیکریٹری راہل گاندھی اور جموں و کشمیر امور کے انچارج رجنی پاٹل کے سامنے بھی پیش کیا گیا ہے۔مستعفی ہونے والوں میں جی ایم سروری، جگل کشور شرما، وقار رسول، ڈاکٹر منوہر لال شرما، غلام نبی مونگا، نریش گپتا، سباش گپتا، امین بٹ اور عنایت علی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مستعفی لیڈروں نے اپنے استعفیٰ نامے میں الزام لگایا ہے کہ غلام احمد میر کی صدارت میں کانگریس کمیٹی تباہی کی راہ پر گامزن ہے اور آج تک زائد از 2 سو لیڈروں جن میں سابق وزرا، ارکان اسمبلی وغیرہ شامل ہیں، پارٹی سے مستعفی ہوئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے ہم عرصہ دراز سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے جموں و کشمیر میں صدارتی عہدے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی‘۔اس دوران جموں میں میڈیا نمائندوں کے سوالوں کو جواب میں بتایا کہ مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے اور نا ہی اس پر بات کرتا ہوں ۔انہوں نے بتایا اگرحد بندی صیح طریقے سے بنایا جاتا تھا جس طرح ہمارے وقت کے دوران ہوتی تھی تو لوگوں کو فائدہ تھا لیکن اگر صیح طریقہ نہیں کیا تو یہ جمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے